.

داعش مخالف جہاد:صدری ملیشیا کو تیار رہنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے طاقتور شیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر نے اپنی وفادار ملیشیا کو شمال مغربی شہر سامراء میں سخت گیر سنی جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام(داعش) کے خلاف جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔

مقتدیٰ الصدر کے دفتر کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اعلان مقدس شہر سامراء کی غیر معمولی صورت حال اور دہشت گردوں سے لاحق ممکنہ خطرے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے سامراء کا محاصرہ کررکھا ہے اور بیان میں ان کی جانب ہی اشارہ ہے۔

بیان کے مطابق مقتدیٰ الصدر نے اپنی شیعہ امن بریگیڈز کو اڑتالیس گھنٹے میں جہاد کی کال کا جواب دینے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ مزید ہدایات کا انتظار کریں۔

سامراء دارالحکومت بغداد سے ایک سو پچیس کلومیٹر دور شمال مغرب میں واقع ہے ۔اس وقت اس شہر پر عراقی فوج اور متعدد شیعہ ملیشیاؤں کا کنٹرول ہے۔مقتدیٰ الصدر کی امن بریگیڈز دوماہ قبل اس شہر سے نکل گئی تھیں۔اب ان کے اس بیان سے ظاہر ہورہا ہے کہ اگر داعش کے جنگجو دریائے دجلہ کے کنارے واقع اس شہر پر دھاوا بولتے ہیں تو صدری ملیشیا دوبارہ لوٹ سکتی ہے۔

یادرہے کہ فروری 2006ء میں عراق پر امریکی قبضے کے وقت سنی جنگجوؤں نے سامراء میں امام عسکری رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔اس کے ردعمل میں شیعہ جنگجوؤں نے اہل سنت پر حملے شروع کردیے تھے اور پھر ان کے درمیان فرقہ وارانہ بنیاد پر کئی ماہ تک خونریزی ہوتی رہی تھی جس میں ہزاروں عراقی مارے گئے تھے۔

اس وقت داعش کے جنگجوؤں نے شہر کی جانب مغربی اور مشرقی سمت سے آنے والے صحرائی راستوں پر قبضہ کررکھا ہے۔عراقی فوج کا جنوب سے سامرا کی جانب آنے والی شاہراہ پر کنٹرول ہے لیکن اس شاہراہ پر واقع دو قصبے معتصم اور اسحاقی داعش کے کنٹرول میں ہیں۔اس کے شمال میں واقع گاؤں مکیشیفہ میں داعش کے جنگجوؤں اور عراقی فورسز کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئی ہیں۔

سامراء کی ملٹری آپریشنز کمانڈ کے ایک کرنل کا کہنا ہے کہ داعش بظاہر اس شہر پر براہ راست حملے کی تیاری کررہے ہیں یا پھر وہ شمالی شہر تکریت میں جاری لڑائی سے سرکاری فورسز کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔

سامراء ،تکریت اور بیجی صوبہ صلاح الدین میں واقع ہیں۔عراقی فورسز گذشتہ ماہ بیجی میں تیل صاف کرنے کے بڑے کارخانے سے داعش کا محاصرہ ختم کرانے میں کامیاب رہی تھیں اور انھوں نے دریائے دجلہ کے ساتھ ساتھ شمال سے جنوب کی جانب جانے والی شاہراہ کے بعض حصوں کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا تھا لیکن اس کے باوجود داعش نے اس شاہراہ پر سفر کرنے والے عراقی عہدے داروں اور فورسز پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔انھوں نے گذشتہ سوموار کو عراق کے وزیردفاع خالد العبیدی کے قافلے کو بیجی کے نزدیک حملے میں نشانہ بنایا تھا۔

درایں اثناء داعش کے ایک خودکش بمبار نے الانبار کے صوبائی دارالحکومت رمادی کے نواح میں ایک حموی گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جس کے نتیجے میں ایک پل تباہ ہوگیا ہے اور دو فوجی مارے گئے ہیں۔عراقی فوج نے الانبار ہی میں واقع قصبے ہیت میں داعش کے جنگجوؤں پر حملہ کیا ہے لیکن انھوں نے ان کے اس حملے کو پسپا کردیا ہے،فوج کی بعض گاڑیاں چھین لی ہیں اور ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کو بھی مار گرایا ہے۔