.

غربِ اردن: تیزاب حملے میں پانچ اسرائیلی زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک فلسطینی شخص نے ایک یہودی خاندان کے افراد پر تیزاب نما کیمیائی مواد پھینکا ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص اور چار بچے زخمی ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق جمعہ کو یہ واقعہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر بیت لحم کے نواح میں واقع ایک یہودی بستی گش عتزیان کے نزدیک چیک پوائنٹ پر پیش آیا ہے۔اایک اسرائیلی نے حملے کے فوری بعد فلسطینی شخص کو گولی مار کر زخمی کردیا ہے۔

اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمان لوبا سامری نے کہا ہے کہ حملہ آور نے تیزاب نما کیمیائی مواد کار میں سوار یہودی خاندان پر پھینکا تھا اور موقع پر موجود ایک شہری نے اس کو گولی مار دی ہے۔بعد میں اسرائیلی اہلکاروں نے اس فلسطینی کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ہے۔

فوری طور پر فلسطینیوں کی جانب سے ایسا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے جس سے یہ پتا چل سکے کہ اس فلسطینی نے یہودی خاندان پر تیزاب کیوں پھینکا ہے۔کسی مزاحمتی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری بھی قبول نہیں کی ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مقبوضہ بیت المقدس اور دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے میں فلسطینیوں اور اسرائِیلیوں کے درمیان شدید کشیدگی پائی جارہی ہے اور قریباً روزانہ ہی تشدد کا کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہورہا ہے۔

گذشتہ چار ماہ کے دوران غرب اردن کے شہروں اور دیہات میں تشدد کے واقعات میں دس اسرائیلی مارے جاچکے ہیں۔ان مِیں زیادہ تر فلسطینیوں کے چاقو حملوں یا کار حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں اور اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں میں دس، پندرہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

گذشتہ بدھ کو غرب اردن میں اسرائیلی بارڈر پولیس کے ساتھ جھڑپ میں فلسطینی وزیر زیاد ابو عین شہید ہوگئے تھے۔وہ کم سے کم ایک سو فلسطینی اور غیرملکی مظاہرین کے ساتھ اسرائیل کی فلسطینی علاقوں میں قائم کردہ یہودی بستیوں کے خلاف احتجاج کے لیے جا رہے تھے اور ایک یہودی بستی کے نزدیک زیتون کا پودے لگانا چاہتے تھے۔

اس دوران انھیں اسرائیلی اہلکاروں نے روک لیا اور ان پر تشدد شروع کردیا تھا۔ایک اسرائیلی ہلاکر نے زیاد ابو عین کو گریبان سے پکڑ لیا تھا جس کے فوری بعد وہ زمین پر گر گئے تھے اور تھوڑی دیر اسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کی موت سینے پر چوٹ اور اشک آور گیس کی شیلنگ کے نتیجے میں دم گھٹنے سے ہوئی ہے جبکہ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ دل کا دورہ پڑنے سے اچانک خالق حقیقی سے جاملے تھے۔فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں دل کا دورہ بھی اسرائیلی حکام کے ناروا سلوک کی وجہ سے پڑا تھا اور وہی ان کی موت کے ذمے دار ہیں۔