.

احرارالشام اور النصرۃ کا اسدی فوج کے دو اڈوں پر قبضہ

ادلب میں خونریز لڑائی میں 31 شامی فوجی اور 12 باغی جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ اور دوسرے اسلامی جنگجوؤں نے شمال مغربی صوبے ادلب میں دوروز کی شدید لڑائی کے بعد سرکاری فوج کے دو اہم اڈوں پر قبضہ کر لیا ہے۔اس لڑائی میں فریقین کے بیسیوں جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

شام کے قدامت پرست جنگجوؤں پر مشتمل باغی گروپ احرارالشام نے شامی فوج کے ادلب میں واقع الحامدیہ بیس اور النصرۃ محاذ نے وادی الضیف بیس پر قبضہ کیا ہے۔اس کے ترجمان حسام ابوبکرنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ان دو فوجی اڈوں پر قبضے کی لڑائی نے باغی دھڑوں کو تھکا دیا ہے''۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق اور ادلب سے تعلق رکھنے والے محمد السید نامی ایک کارکن نے اطلاع دی ہے کہ القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ اور دوسرے باغی دھڑوں کے جنگجوؤں نے سوموار کی صبح وادی الضیف پر قبضہ کر لیا تھا۔دوپہر کے وقت انھوں نے نزدیک واقع الحامدیہ بیس پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

حسام ابوبکر نے اسکائپ کے ذریعے امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا ہے کہ سرکاری فورسز نے پہلے وادی الضیف کو خالی کیا اور وہ الحامدیہ کی جانب چلی گئی تھیں اور پھر وہاں سے انھوں نے نزدیک واقع گاؤں بسیدا کا رُخ کیا لیکن باغیوں نے اس پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔اس کے بعد سرکاری فوج ایک اور گاؤں معرحطاط میں مورچہ بند ہونے پر مجبور ہوگئی ہے اور اب اس کا بھی محاصرہ کیا جارہا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ہر گھنٹے کے بعد ہلاکتوں اور قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے قبل ازیں یہ اطلاع دی تھی کہ مسلح افواج کی الحامدیہ میں باغیوں کے ساتھ شدید لڑائی ہورہی تھی۔سوموار کی صبح وادی ضیف کے علاقے میں ان کی نئی صف بندی کی گئی تھی لیکن سرکاری ٹی وی نے ان دونوں مقامات پر لڑائی کی مزید تفصیل بیان نہیں کی ہے اور نہ وہاں سے سرکاری فوج کی پسپائی کا کوئی تذکرہ کیا ہے۔

شامی آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ اتوار سے جاری لڑائی میں اکتیس سرکاری فوجی اور بارہ باغی جنگجو مارے گئے ہیں اور باغیوں نے پندرہ سرکاری فوجیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

ادلب میں النصرۃ محاذ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ جنگجو اب وادی الضیف کے علاقے میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کررہے ہیں۔واضح رہے کہ النصرۃ محاذ اور دوسرے جنگجو گروپوں نے صوبہ ادلب کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے جبکہ ادلب شہر پر ابھی تک سرکاری فوج کا کنٹرول برقرار ہے۔اس کے نواح میں ایک فوجی اڈے قرمید پر بھی فوج کا کنٹرول ہے۔

صوبہ ادلب کے شہر معرۃ النعمان کے نزدیک واقع وادی الضیف اور الحامدیہ میں دونوں فوجی اڈوں پر قبضہ شامی آرمی کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔قبل ازیں دو سال تک شامی فوج نے ان دونوں اڈوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھا تھا اور باغی جنگجوؤں کے متعدد حملوں کو پسپا کردیا تھا۔

ادلب میں یہ خونریز لڑائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یورپی یونین کے وزرائے خارجہ برسلز میں شام کے شمالی شہر حلب میں اسدی فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی منجمد کرانے کے طریقوں پر غور کررہے ہیں۔حلب میں لڑائی بند کرنے اور متاثرہ شامیوں تک امدادی سامان پہنچانے کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے تجویز پیش کی ہے۔اس پر اگر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو یورپی یونین خانہ جنگی سے تباہ حال اس شہرمیں بنیادی خدمات کی بحالی کے لیے وسائل بھی مہیا کرے گی۔