.

شام:آرمی بیس پر قبضے کے لیے لڑائی ،180 ہلاک

خونریز جھڑپوں میں 100فوجی اور النصرۃ کے 80 جنگجو مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب کے علاقے وادی الضیف میں واقع فوجی اڈے پر قبضے کے لیے جہادیوں اور اسدی فوج کے درمیان گذشتہ دو روز سے جاری لڑائی میں ایک سو اسّی افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے منگل کو اطلاع دی ہے کہ وادی الضیف میں لڑائی میں القاعدہ سے وابستہ گروپ النصرۃ محاذ کے اسّی جنگجو اور کم سے کم ایک سو شامی فوجی مارے گئے ہیں۔

النصرۃ محاذ نے سوموار کے روز شامی فوج کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد وادی الضیف بیس پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔یہ فوجی اڈا شمالی شہر حلب اور جنوب میں دارالحکومت دمشق کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔

شامی فوج نے اس بیس پر باغی گروپ کے قبضے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔البتہ شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ فوج نے صوبہ ادلب میں متعدد ''دہشت گردوں'' کو ہلاک کردیا ہے۔واضح رہے کہ شامی حکومت اور اس کے تحت ذرائع ابلاغ باغیوں کو دہشت گرد قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔

شام کے قدامت پرست جنگجوؤں پر مشتمل باغی گروپ احرارالشام نے شامی فوج کے ادلب ہی میں واقع الحامدیہ بیس پر قبضہ کرلیا تھا۔ادلب میں النصرۃ محاذ نے گذشتہ روز اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگجو اب وادی الضیف کے علاقے میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کررہے ہیں۔النصرۃ محاذ اور دوسرے جنگجو گروپوں نے پہلے ہی صوبہ ادلب کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے جبکہ ادلب شہر پر ابھی تک سرکاری فوج کا کنٹرول برقرار ہے۔اس کے نواح میں ایک فوجی اڈے قرمید پر بھی فوج کا کنٹرول ہے۔

صوبہ ادلب کے شہر معرۃ النعمان کے نزدیک واقع وادی الضیف اور الحامدیہ میں دونوں فوجی اڈوں پر قبضہ شامی آرمی کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔قبل ازیں دو سال تک شامی فوج نے ان دونوں اڈوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھا تھا اور باغی جنگجوؤں کے متعدد حملوں کو پسپا کردیا تھا۔