.

مشرقی یروشلم: فلسطینیوں کی رہائش پر قدغن سے زندگیاں اجیرن

اسرائیلی وزیر داخلہ نے فلسطینیوں کے حق واپسی کو خطرناک کہا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رعنا اور امجد یہ توقع نہیں کرتے تھے کہ شادی کے بعد انہیں اور ہزاروں دوسرے فلسطینی جوڑوں کو ان خودکش حملوں کے حوالے سے سزا کا سامنا کرنا پڑے گا جو ان کی شادیوں کے کچھ برس بعد ہوئے تھے۔

رعنا کی شادی تیرہ برس پہلے ہوئی تھی لیکن اس کا کہنا ہے کہ "میں ایک تنہا ماں کے طور پر رہ رہی ہوں، میں اپنے شوہر سے کوئی توقع رکھ سکتی ہوں نہ اس پر انحصار کر سکتی ہوں کہ میرے شوہر کو اسرائیل نے تمام تر حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔"

رعنا اسرائیل میں مستقل رہائش کی اجازت رکھتی ہے اس لیے اس نے شادی کے بعد مشرقی یروشلم میں رہائش کا فیصلہ کیا اور اپنے شوہر امجد کو بھی مغربی کنارے سے یہیں بلا لیا تھا۔ رعنا کے خیال تھا میں اس طریقے سے وہ اپنے خاندان کو از سر نو اکٹھا کرسکنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

توقع تھی کہ اپنی اہلیہ کی وجہ سے امجد کو بھی یہاں رہنے کا حق مل جائے گا۔ لیکن 2003 میں حیفا میں ہونے والے ایک خودکش حملے کے بعد امجد کے لیے یہ موقع مشکل ہو گیا کہ وہ مشرقی یروشلم میں اپنے خاندان کے ساتھ خوشگوار زندگی گذار سکے گا۔

کیونکہ اس واقعے کے فوری بعد اسرائیل میں داخلے اور یہاں کی شہریت کے حوالے سے ایسا قانون منظور کر لیا گیا جو امجد کی راہ میں حائل ہو گیا۔ اس نئے قانون کے تحت اس امر کی گارنٹی نہ رہی کہ اسرائیل کسی فلسطینی کو اسرائیل کی شہریت یا ٹھہرنے کی اجازت دے گا۔

امجد اور اس طرح کے دوسرے افراد جنہوں نے اپنے خاندانوں کے ساتھ اکٹھے رہنے کی خواہش کی بنیاد پر درخواستیں اس قانون کی منظوری سے پہلے دی تھیں انہیں بھی اس نئے قانون کے تحت بعد ازاں ایسا حق ملنے سے انکار ہو گیا۔

رعنا کے مطابق "میرا شوہر مجھے ہسپتال لے جانے کے حق سے بھی محروم ہے، اس اذیت ناک تجربے سے میں اس وقت گذری جب مجھے بچے کو جنم دینے کے لیے ہسپتال جانا تھا لیکن میرے شوہر کو گاڑی چلا کر ہسپتال جانے کی اجازت نہ تھی۔"

رعنا نے اپنی کسمپرسی کا احوال سناتے ہوئے کہا "میری زندگی اس قدر بے چارگی کا شکار ہوجائے گی میں نے کبھی نہ سوچا تھا۔"

دالیا کیرسٹین اسرائیلی ہیومن رائٹس سنٹر نامی ادارے کے ڈائریکٹر ہیں ان کا کہنا ہے کہ "یہ اسرائیلی قانون ایک طرح سے اجتماعی سزا کا حوالہ ہے۔"

ڈائریکٹر نے مزید کہا "فلسطینی خوفزدہ ہیں کہ قانون ان کے خلاف ہے لیکن کوئی نہیں جانتا کہ اس نے اس قانون کے خلاف کچھ کہا تو اس کے لیے مضمرات کیا ہوں گے۔"

دالیا کیرسٹن نے کہا یہ درحقیقت مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان آبادی کا تناسب 25 اور 75 برقرار رکھنے کے لیے ہے۔" کیونکہ 2002 میں اسرائیلی وزیر داخلہ نے رپورٹ دی تھی کہ 1993 سے اب تک ایک لاکھ چالیس ہزار فلسطینیوں نے اپنے خاندانوں کو جوڑنے کے لیے مشرقی یروشلم میں رہائش کی ہے۔

اسرائیلی وزیر داخلہ کے مطابق ان اعدادو شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ فلسطینیوں کا حق واپسی دراصل اسرائیل کے پچھواڑے سے اسرائیل میں گھسنے کی کوشش ہے۔