.

فلسطینی صدر مجوزہ قرارداد پر مزید بات چیت کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کردہ قرارداد پر مزید بات چیت کے حامی ہیں۔

محمود عباس نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی قیادت کے ایک اجلاس میں کہا ہے کہ ''ہم اقوام متحدہ میں اپنے دوستوں اور بھائیوں کے ساتھ قرارداد پر مشاورت کا سلسلہ جاری رکھیں گے''۔

اردن کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بدھ کو جمع کرائی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز 2017ء کے اختتام تک سنہ 1967ء کی جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں کو خالی کردے۔

فلسطینی اس قرارداد پر عالمی برادری کی حمایت چاہتے ہیں لیکن اسرائیل کا پشتی بان ملک امریکا اس کو ویٹو کرنے کا عندیہ دے چکا ہے اور اس نے اس کی حمایت کی کوئی یقین ہانی نہیں کرائی ہے۔سلامتی کونسل کے چار دوسرے مستقل رکن ممالک کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

اسرائیل سلامتی کونسل میں فلسطین کے ساتھ مذاکرات کے لیے نظام الاوقات وضع کرنے کی غرض سے کسی بھی مجوزہ اقدام کی مخالفت کررہا ہے۔انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکا سے یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق قرارداد کی حمایت نہ کرے اور اس کو ویٹو کردے۔

انتہا پسند صہیونی وزیرخارجہ ایویگڈور لائبرمین نے سلامتی کونسل میں پیش کردہ قرارداد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''یقینی طور پر اس سے سمجھوتے کو مہمیز نہیں ملے گی کیونکہ اسرائیل کی رضا مندی کے بغیر کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا''۔

انھوں نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں یک طرفہ اقدام سے عشروں پر محیط تنازعہ مزید گہرا ہوگا۔انھوں نے سلامتی کونسل کو یہ مشورہ بھی دے ڈالا ہے کہ ''وہ دنیا کے شہریوں کو درپیش زیادہ اہمیت کے حامل امور پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔اس ضمن میں وہ اسی ہفتے آسٹریلیا اور پاکستان میں تباہ کن حملوں یا شام اور لیبیا میں رونما ہونے والے واقعات پر غور کرے اور فلسطینیوں کے توجہ حاصل کرنے کے حربے پر اپنا وقت ضائع نہ کرے''۔