.

مرسی کے 40 حامیوں کو چرچ نذرآتش کرنے پر جیل کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے چالیس حامیوں کو عیسائیوں کے گرجا گھروں کو نذرآتش کرنے سمیت تشدد کے واقعات میں ملوّث ہونے کے الزام میں پندرہ سال تک جیل کی سزائیں سنائی ہیں۔

عدالتی ذرائع کے مطابق مصر کے جنوبی شہر اسیوط میں فوجداری عدالت نے جمعرات کو دو مدعاعلیہان کو قصور وار قراردے کر پندرہ ،پندرہ سال قید کی سزا سنائی ہے اور اسی مقدمے میں ماخوذ باقی مدعاعلیہان کو ایک سال سے دس تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

ان تمام افراد پر گذشتہ سال ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد اسیوط میں تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ان پر پانچ گرجا گھروں ،متعدد پولیس اسٹیشنوں اور دکانوں کو نذرآتش کرنے کا الزام تھا۔تاہم ان واقعات میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا تھا۔عدالت نے اسی مقدمے میں اکسٹھ افراد کو بری کردیا ہے۔

مصری سکیورٹی فورسز نے 14 اگست 2013ء کو قاہرہ میں ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کے احتجاجی دھرنوں کو منتشر کرنے کے لیے خونیں کریک ڈاؤن کیا تھا اور اس کے بعد سے ملک کی سب سے منظم دینی وسیاسی جماعت اخوان المسلمون کی مرکزی قیادت سمیت قریباً پندرہ ہزار افراد کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔

سکیورٹی فورسز کی ہلاکت آفریں کارروائیوں کے ردعمل میں اخوان المسلمون کے حامیوں نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور بعض مقامات پر انھوں نے عیسائیوں کے گرجاگھروں اور ان سے وابستہ املاک کو نذرآتش کردیا تھا یا توڑ پھوڑ کی تھی۔

مصر کی عدالتیں ان تشدد آمیز احتجاجی کارروائیوں پر اخوان کے ایک ہزار سے زیادہ حامیوں اورکارکنان کو سزائے موت سنا چکی ہیں اور ہزاروں کو ایک سال سے تاعمرجیل کی سزائیں سنائی گئی ہیں اور مصری حکومت ایک سال قبل اخوان کو دہشت گرد قرار دے کر کالعدم قرار دے چکی ہے۔ان سزاؤں پر امریکا سمیت مغربی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں گہری تشویش کا اظہار کرچکی ہیں۔

واضح رہے کہ مارچ 2014ء میں مصر کی ایک عدالت نے ڈاکٹر مرسی کے 529 حامیوں کو ایک پولیس افسر کو قتل کرنے کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی لیکن بعد میں عدالت نے ان میں سے سینتیس افراد کی پھانسی کی سزا بحال رکھی تھی اور باقی افراد کی سزا کم کرکے عمر قید میں تبدیل کردی تھی۔

اپریل میں عدالت نے ڈاکٹر مرسی کے 683 حامیوں کو ایک پولیس اسٹیشن پر حملے اور ایک پولیس افسر کو قتل کرنے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔کالعدم اخوان المسلمون کے حامیوں اور کارکنان کو اس طرح تھوک کے حساب سے سنائی گئی پھانسیوں کی سزاؤں پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے تنقید کی ہے اور عدالتی فیصلوں پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔