.

ہرجانہ؟ کویت نے عراق کی درخواست قبول کر لی

خلیج جنگ کے دوران کویت کے تیل کنوؤں کو جلانے پر رقم کی ادائی مؤخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے جنگِ خلیج معاوضہ کمیشن نے عراق کے ذمے کویت کو ہرجانے کے طور پر ادا کی جانے والے رقم کی وصولی کو ایک سال کے لیے مؤخر کردیا ہے اور اس حوالے سے عراق کی درخواست قبول کر لی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک پر مشتمل معاوضہ کمیشن کی گورننگ باڈی نے جمعرات کو اتفاق رائے سے عراق کے ذمے واجب الادا رقم کی وصولی کو ایک سال کے لیے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کونسل کے تمام پندرہ رکن ممالک خلیجی جنگ معاوضہ کمیشن کے بھی ارکان ہیں۔

عراق نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بتدریج کمی سے تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی اپنی آمدن میں کمی اور سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف جنگ کے پیش نظر کویت سے آیندہ مالی سال کے بجٹ کے دوران واجب الادا رقم کی وصول ایک سال کے لیے موخر کرنے کی اپیل کی تھی۔

کویت کی وزارت خزانہ کے انڈر سیکریٹری خالد جاراللہ کا کہنا ہے کہ عراق کے ذمے واجب الاد رقم کی ادائی مؤخر کرنے کی درخواست قبول کر لی گئی ہے۔اقوام متحدہ معاوضہ کمیشن کی قانونی افسر لیح کرافٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ''گورننگ کونسل نے عراق کی جانب سے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن کا پانچ فی صد ادا کرنے میں یکم جنوری 2016ء تک تاخیر کے لیے درخواست قبول کرلی تھی''۔

جنیوا میں بند کمرے کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ''کونسل نے عراق کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا ہے اور اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں جتنا ممکن ہو،مددگار کا کردار ادا کرے''۔

عراق کے وزیرخزانہ ہوشیار زیباری نے اسی ہفتے کہا تھا کہ ان کا ملک 1990-91ء میں کویت پر قبضے کی پاداش میں ہرجانے کے طور پر واجب الادا چار ارب ساٹھ کروڑ ڈالرز کی آخری قسط کی ادائی میں تاخیر چاہتا ہے کیونکہ اس کو تیل کی قیمتوں میں کمی اور داعش کے خلاف جنگ کی وجہ سے مالی بحران کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ عراق سابق مصلوب صدر صدام حسین کے دور میں کویت پر سات ماہ تک قبضے کے دوران لوٹ مار اور مالی نقصان کے ازالے کے لیے اپنی خام تیل کی آمدن میں سے پانچ فی صد رقم اقوام متحدہ کے ازالہ کمیشن کے ہاں سالانہ جمع کروا رہا ہے۔دس لاکھ سے زیادہ کویتیوں،کمپنیوں اور کویتی حکومت نے عراق پر ہرجانے کے دعوے کیے تھے اور انھیں عراق کی جانب سے اب تک ان کے نقصانات کے ازالے کے طور پر باون ارب چالیس ڈالرز کی رقم ادا کی جاچکی ہے۔

عراق درپیش اقتصادی بحران کی وجہ سے ہرجانے کی واجب الادا قسط ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا ہے اور اس کے مالی سال 2015ء کے بجٹ میں اتنی فاضل رقم نہیں ہوگی کہ وہ کویت کے واجبات ادا کرسکے۔اس نے مالی بحران کی وجہ سے اپنے بہت سے ترقیاتی اور غیر ضروری اخراجات کو بھی ختم کردیا ہے۔

عراق تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کا رکن ہے۔عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں کمی اور ملک کے شمال اور شمال مغربی علاقوں میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف جنگ کی وجہ سے وہ مالی دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔داعش کی اس سال کے وسط میں شمالی شہروں میں شورش کے بعد سے لاکھوں عراقی بے گھر ہوگئے ہیں اور انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

یادرہے کہ عراقی فوجیوں نے امریکا کی قیادت میں اتحادیوں کے آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم کے بعد کویت سے پسپا ہوتے ہوئے سات سو سے زیادہ کنوؤں کو آگ لگادی تھی،ان میں سے بعض میں دس ماہ تک آگ لگی رہی تھی۔ مذکورہ تمام رقم کویتی حکومت کو خلیجی جنگ کے دوران تیل کے کنوؤں کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے طور پرادا کی جانا تھی۔

اس جنگ کے دوران ہی سنہ 1990ء کے عشرے کے اوائل میں اقوام متحدہ نے عراق پر اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں اور اس نے سنہ 1996ء میں اقوام متحدہ کے ساتھ تیل کے بدلے خوراک پروگرام کا سمجھوتا کیا تھا اور اس کے تحت اپنی تیل کی برآمدات شروع کی تھیں۔اس معاہدے کے تحت پہلے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم کا تیس فی صد اور پھر پچیس فی صد کویت کو ہرجانے کے طور پر ادا کیا جاتا رہا تھا۔ سنہ 2003ء میں عراق پر امریکا کی چڑھائی اور صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد اقوام متحدہ نے پابندیاں ختم کردی تھیں اور ہرجانے کی رقم سالانہ پچیس فی صد سے کم کر کے پانچ فی صد کردی تھی۔