.

اسرائیل لبنان کو آٹھ سو پچاس ملین ادا کرے: اقوام متحدہ

لبنانی ساحلی علاقے آلودہ کرنے کے پر ہرجانے کی قرار داد منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ جولائی دو ہزار چھ کی جنگ کے دوران لبنان کو ماحولیاتی اعتبار سے نقصان پہنچانے کا آ ٹھ سو پچاس ملین ڈالر کا ہرجانہ ادا کرے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے یہ مطالبہ ایک سو ستر ارکان کے ووٹ کی بنیاد پر منظور کی گئی ایک قرار داد میں کیا گیا ہے۔ قرارداد کے خلاف امریکا، اسرائیل، کینیڈا اورآسٹریلیا سمیت چھ ممالک نے ووٹ دیا جبکہ تین ملکوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

دو ہزار چھ میں جنگ کے دوران اسرائیلی ٹینکوں نے لبنان کے آ لودگی کے حوالے سے سخت نقصان پہنچایا تھا۔ اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ اس جنگ کی وجہ سے شام کے ساحلی علاقوں تک لبنان کے ساحل آلودگی سے متاثر ہوٗے تھے۔

اس سے قبل بھی اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کو لبنان کو ہرجانہ ادا کرنے کا کہتا جاتا رہا ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اقوام متحدہ نے اس حوالے سے ایک متعین رقم کی بھی سفارش کی ہے۔

اسرائیل کی طرف سے فوری طور پر کہا گیا ہے کہ اس کے ٹینکوں کی تمام تر سرگرمیاں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی آلودگی کے خلاف پروگرام کے ساتھ مربوط تھا۔

بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے منظور کی گئی ایسی قرار داد کی پابندی لازمی نہیں ہوتی ہے بلکہ محض سفارش کی طرح ہوتی ہے۔ جنرل اسمبلی نے تسلیم کیا ہے کہ اگست میں اس بارے میں سامنےآنے والی رپورٹ کا سیکرٹری جنرل نے جاٗئزہ لیا تھا۔

اقوام متحدہ کے مختلف متعلقہ اداروں نے بھی اس رپورٹ کی تیاری میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ سیکرٹری جنرل نے اسرائیلی حکومت کی طرف سے قرارداد کے بارے میں منفی ردعمل پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا ہم اس معاملے پر پختہ ہیں کہ لبنان کو اپنے حق کے لیے تمام قانونی راستے اختیار کرنے کی حمایت کی جانی چاہیے۔