.

'داعش نے مردوں کو قتل اور عورتوں کو لونڈیاں بنایا'

دولت اسلامی کے مظالم کی شکار یزیدی خاتون کی 'العربیہ' سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی عراق میں سنجار کے علاقے میں دولت اسلامی 'داعش' کے جنگجوئوں کے حملوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ وہاں کے یزیدی قبیلے کے لوگ متاثر ہوئے کیونکہ داعش کے جنگجوئوں نے یزیدی قبیلے کے مردوں کو غلام اور عورتوں کو لونڈیاں بنا کر سر عام نیلام کیا۔ ان کا وحشیانہ قتل عام کیا گیا اور ان پر مظالم کی انتہا کر دی گئی۔

داعش کے ظلم کی شکار ایک یزیدی خاتون نے’’العربیہ‘‘ کی نامہ نگار ریما مکتبی کو اپنی بپتا سنائی۔ انیس سالہ یزیدی خاتون نے بتایا کہ داعش کے جنگجوئوں نے اس کے شوہر کو اس کے سامنے گولیاں مار کر ہلاک کیا اور اسے لونڈی بنا کر ساتھ لے گئے۔

بعد ازاں اسے ایک زیر تعمیر مکان میں رکھا گیا جہاں پانچ دوسرے یزیدی قبیلے کے لوگ بھی یرغمال بنا کر رکھے گئے تھے۔ وہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں زندگی کی کوئی سہولت نہیں تھی۔

یزیدی خاتون نے بتایا کہ اس نے اکیس دن داعش کی حراست میں گذارے جس کے بعد وہ وہاں سے فرار میں کامیاب ہو گئی۔ پکڑے جانے کے خوف سے 'العربیہ' سے گفتگو کے دوران اس نے کیمرے کے سامنے آنے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ دنیا تک صرف اپنی اواز پہنچانا چاہتی ہے۔

یزیدی خاتون کا کہنا تھا کہ داعش کے جنگجو خواتین، بچوں اور مردوں سے نہایت سفاکانہ سلوک کرتے۔ خواتین کو سر عام قطاروں میں کھڑا کیا جاتا اور ان کے شوہروں کو گولیاں ماری دی جاتیں۔ اس کے خاندان کے تمام مرد قتل کر دیے اور خواتین کو یرغمال بنا لیا گیا۔ یرغمال بنائے جانے کے بعد انہیں پہلے سیبہ الشیخ کے مقام پر لے جایا گیا، وہاں سے بعاش اور پھر موصل منتقل کر دیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں ستم رسیدہ یزیدی دوشیزہ نے بتایا کہ داعش کے جنگجو انہیں مارتے پیٹے اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے۔ دوران حراست اس کے شیر خوار بچے کو دودھ تک نہیں ملا اور وہ بھی اکیس دن تک بھوکا پیا بلکتا رہا۔

یزیدی خاتون کا کہنا تھا کہ میں نے اپنےشوہر اور پورے خاندان کو داعش کے ہاتھوں اپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتے دیکھا۔ میں ان کا خون کسی صورت میں معاف نہیں کروں گی۔ اگر میرے پاس کوئی ہتھیار ہوتا تو میں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور جنگ کرتی۔ اب بھی اگر مجھے موقع ملا تو میں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں خود بھی شامل ہو کر لڑوں گی۔