.

اسرائیل، مقبوضہ علاقے میں سیاحتی مرکز کے قیام کا فیصلہ

پارلیمنٹ کی فنانس کمیٹی نے فنڈز فراہم کرنے کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پارلیمنٹ کی فنانس کمیٹی نے سیاحتی مرکز قائم کرنے کے لیے تین اعشاریہ تین ملین ڈالر کی رقم کی منظوری دی ہے۔ اس سیاحتی مرکز کی اہم بات یہ ہے کہ یہ مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم شدہ یہودی بستی میں قائم کیا جائے گا۔

فنانس کمیٹی نے یہ رقم ارکان نامی یہودی بستی کے لیے منظور کی ہے۔ مذکورہ یہودی بستی فلسطینی مقبوضہ علاقے میں اسرائیل نے قائم کررکھی ہے۔ پارلیمنٹ کے مطابق یہ سیاحتی مرکز تین ماہ سے کم عرصے میں متوقع اگلے عام انتخابات سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا۔

وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اپنی اتحادی جماعتوں کے دو اہم وزرا کو نئے انتخابات کی تاریخ پر اختلاف کی وجہ سے برطرف کر چکے ہیں۔ ان برطرف کردہ وزیریائرلیپڈکا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے مخالفین اسے ایک سیاسی رشوت کا نام دیتے ہیں۔ کیونکہ نیتن یاہو نئے انتخابات سے پہلے یہودی آبادکاروں کو اپنے حق میں رام کرنا چاہتے ہیں۔

اس صورتحال میں بنجمن نیتن یاہو نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے جبکہ یہودی بستیوں میں تعمیر کیے گئے گھروں کی قیمتوں میں تیس فیصد کمی بھی کی ہے۔

واضح رہےنئی یہودی بستیوں کی تعمیر اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بین الاقوامی برادری بھی ان یہودی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔