.

مصر، انصار بیت المقدس کے پانچ عسکریت پسند ہلاک

ہلاک ہونے والوں میں گروہ کے سربراہ کا بیٹا بھی شامل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری پولیس نے انصار بیت المقدس سے وابستہ پانچ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق عسکریت ایک کھیت میں چھپ کربم تیار کر رہے تھے کہ پولیس نے ان کےخلاف کارروائی کی۔

پولیس کی کارروائی کو دیکھتے ہوئے عسکریت پسندوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ تاہم فائرنگ کے تبادلے میں پانچوں عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔

تاہم اس دوطرفہ فائرنگ کے دوران ایک پولیس افسر بھی زخمی ہو گیا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ دارالحکومت قاہرہ شمال مشرقی علاقے اور صوبہ شرقیہ میں دریائے نیل کے ڈیلٹا میں پیش ٓآیا ہے۔

جزیرہ نما سینا میں مصری سکیورٹی فورسز ماہ اکتوبر سے عسکریت پسندوں کے خلاف ایک آپریشن شروع کیے ہوئے ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق واقعے میں پولیس نے ایک کارمیں نصب شدہ بم کے علاوہ خود کش بیلٹ بھی قبضے میں لی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ ان مارے گئے پانچ عسکریت پسندوں میں سے تین کی شناخت عبدالفتاح عاید مرزوق سلمان، حمدین سلمان سعد اور معوذ ابراہیم کے طور پر ہوئی ہے۔ معوذ ابراہیم عبد الرحمان انصار بیت المقدس کے سربراہ کا بیٹا ہے۔ انصار بیت المقدس کا سربراہ آج کل جیل میں ہے۔

انصار بیت المقدس نے داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کا اعلان کر رکھا ہے۔ واضح رہے انصاربیت المقدس نے چوبیس اکتوبر کو ایک خود کش حملہ کر کے تیس پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔