.

ہزاروں مسیحی داعش کے مظالم کے باعث موصل سے بے گھر

مسیحی متاثرین کی مشکلات پر مبنی 'العربیہ' کی خصوصی کوریج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی سرحد سے متصل شمالی عراق کے بڑے شہر موصل اور نینوا پر دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے قبضے کے بعد وہاں پر مقیم 20 ہزار مسیحی خاندان گھر بار چھوڑ کر اپنی زندگی اور عزت بچانے کے لیے صوبہ کردستان کے علاقوں میں نہایت کسمپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔

دبئی سے نشریات پیش کرنے والے پین عرب نیوز چینل 'العربیہ' نے عراق کے پرخطر محاذوں سے رپورٹنگ کے دوران موصل کے ستم رسیدہ مسیحی خاندانوں کی مشکلات پر بھی اپنی ایک رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے کہ جو اس سال کرسمس کو اپنے لئے ڈروانا خواب قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق موصل کے مسیحی اکثریتی علاقے ’’عین کاوۃ‘‘ کے متاثرین سے بات چیت کے دوران انہوں نے داعش کے مظالم اور نقل مکانی کی اپنی مشکلات کے بارے میں آگاہ کیا۔ مسیحی شہریوں کا کہنا ہے کہ جب سے دولت اسلامی کے جنگجوئوں نے موصل اور اس کے مضافات پر قبضہ کیا ہے، اس وقت سے بیس ہزار مسیحی خاندان نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

متاثرہ مسیحی خاندان کی فرح نامی ایک خاتون نے 'العربیہ' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ داعش کے حملے کے بعد ہمارا سب کچھ چھن گیا، والدین، اولاد، گھر اور نہ ہی کوئی اور چیز ہمارے پاس بچی ہے۔ ہم بے یار و مددگار پناہ گزین کیمپوں میں پڑے ہیں تاہم خاتون نے امید ظاہر کی کہ وہ جلد اپنے علاقوں اور گھروں کو واپس جائیں گے اور ان کی یہ مشکلات ختم ہوں گی۔

ایک مسیحی مذہبی پیشوا اور اربیل چرچ کے چیئرمین بشپ بشار وردہ نے کہا کہ "موصل سے نقل مکانی کے وقت ہم سوچ رہے تھے کہ یہ چند ایام یا ایک ماہ کی پریشانی ہے اور ہم جلد واپس اپنے گھروں کو لوٹیں گے مگر اب بات برسوں کی دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے امداد فراہم کرنے والی تنظیموں کے ایماء پر اپنے چرچ بھی خالی کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ 85 مسیحی لبنان، اردن اور ترکی جیسے ملکوں کو نقل مکانی کر گئے۔ وقت گذرنے کے ساتھ مسیحی پناہ گزینوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور حالات ہمارے قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔

خیال رہے کہ عراق کے نیم خود مختار صوبہ کردستان نے موصل اور دوسرے عراقی شہروں سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں پناہ گزینوں کو اپنے ہاں پناہ دی ہے۔ عین کاوۃ جہاں العربیہ کی ٹیم نے مسیحی برادری کے باشندوں سے ملاقات کی 400 مسیحی خاندانوں کے 1600 باشندوں پر مشتمل ہے۔ کسی دور میں یہ علاقہ اہم ترین تجارتی مرکز شمار ہوتا تھا لیکن اب اس کی کاروباری رونقیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ مسیحی پناہ گزین خوف زدہ ہیں۔ وہ کیمرے کی آنکھ کے سامنے آنے اور بات کرنے سے بھی کتراتے ہیں مگران کے چہروں پر لکھی پریشانی اور دکھ کی تحریریں با آسانی پڑھی جا سکتی ہیں۔