.

الیکشن سے قبل یہودی بستیوں کے لیے کروڑوں کے فنڈز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت نے قومی انتخابات سے قبل مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم یہودی بستیوں میں تعمیر وترقی کے منصوبوں کے لیے سرکاری خزانے کے منہ کھول دیے ہیں اور ایک عہدے دار کے بہ قول حکومت وہاں سرکاری عمارتوں اور سڑکوں کی تعمیر کے لیے کروڑوں ڈالرز کے فنڈز دے رہی ہے۔

اس عہدے دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ یہودی بستیوں میں تعمیراتی منصوبوں کے لیے یہ رقم سابق وزیرخزانہ یائر لیپڈ نے روک رکھی تھی اور یہ اب جاری کی جا رہی ہے۔

مسٹر یائر انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ یہودی بستیوں سمیت مختلف امور پر اختلافات کی وجہ سے اسی ماہ وزیر خزانہ کی حیثیت سے سبکدوش ہوگئے تھے۔ اس کے بعد ہی صہیونی ریاست میں قبل از وقت عام انتخابات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔انھوں نے اگلے روز اسرائیل کے اٹارنی جنرل سے کہا ہے کہ وہ یہودی بستیوں کو سرکاری فنڈز کی منتقلی کو روکیں کیونکہ یہ اقدام مارچ میں ہونے والے انتخابات سے قبل سیاسی محرکات کی بنا پر کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس پر 1967ء کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا اوربعد میں اس کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا۔اسرائیل اب عالمی برادری کی مخالفت کے باوجود فلسطینی سرزمین پر یہودی آباد کاروں کے لیے تعمیرات کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسرائیل تورات اور زبور کے حوالوں سے بیت المقدس کو یہودیوں کے لیے خاص شہر قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہودیوں کو اس شہر میں کہیں بھی بسیرا کرنے کی اجازت ہے۔وہ یروشلم کو اپنا ابدی دارالحکومت بھی قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی اس مقدس شہر کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

فلسطینی غرب اردن میں یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات کی شدید مخالفت کررہے ہیں۔انھوں نے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرانے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی مہم شروع کررکھی ہے۔ان کا عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے ایک ڈیڈ لائن مقرر کرے،1967ء سے قبل کی سرحدوں میں فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم یہودی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد پر پابندی عاید کردے۔