.

شمالی عراق میں داعش کے خلاف گھمسان کی جنگ

کوہ سنجار کی مرکزی شاہراہ پر کرد فوج کا کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی عراق کے کئی محاذوں پر عراقی اور کرد فوج نے دولت اسلامی "داعش" کے دہشت گردوں کا گھیرا تنگ کرنے کے بعد انہیں محصور کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کوہ سنجار، بیجی اور تلعفر میں داعش کے خلاف گھمسان کی جنگ جاری ہے جس میں دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کوہ سنجار میں داعش کے زیر قبضہ مزید کئی دیہات خالی کرانے کے بعد کرد فوج البیشمرکہ نے اہم پوسٹوں پر کنٹرول کے ساتھ جبل سنجار کی مرکزی شاہراہ کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔ بیجی میں کرد فوج کو بغداد کی جانب سے بھی کمک فراہم کی گئی ہے۔

کوہ سنجار میں داعش کو شکست دینے کے بعد یزیدی قبیلے کے مزید درجنوں محصور خاندانوں کو بازیاب کرایا گیا ہے۔ کرد فوج کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی اتحادی فوج کے فضائی آپریشن کے سائے میں کوہ سنجار اور اس کے مضافات میں داعش کے خلاف مزید پیش قدمی کی تیاری کر رہی ہے۔

کرد فوج کے دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے کے ماہرین داعش کی جانب سے سنجار کے قرب وجوار میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی تلاش اور ان کی تباہی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اگلے مرحلے میں موصل سے پندرہ کلو میٹر دور مسیحی اکثریتی علاقے نینویٰ کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے آپریشن شروع کریں گے۔

ادھر موصل سے 70 کلومیٹر دور تلعفر کے مقام پر داعش اور البیشمرکہ کے درمیان گھمسان کی جنگ کی اطلاعات ہیں۔ البیشمرکہ فورسز نے سنجار سے دس کلومیٹر دور ایک سیمنٹ فیکٹری پر حملہ کیا ہے تاہم تلعفر ہوائی اڈا ھنوز داعش ہی کے کنٹرول میں ہے۔ البیشمرکہ فوج اور اتحادی فوج کے طیارے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں داعش کے جنگجو پسپائی اختیار کرتے ہوئے پہاڑی علاقوں میں محصور ہو رہے ہیں۔

بیجی میں دہشت گردوں کی پیش قدمی کی اطلاعات ہیں۔ صلاح الدین کے گورنر کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے بیجی کے مغرب کی طرف سے کھلے مقامات پر دوبارہ پیش قدمی کی ہے۔ عسکریت پسندوں کی پیش قدمی کی وجہ الفتحہ الصینیہ کے علاقے میں سرکاری فوج کی معقول تعداد میں نہ ہونا ہے تاہم مقامی قبائل عسکریت پسندوں کو روکنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔