.

محمود عباس کی اسرائیل سے تعاون ختم کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے کہا ہے کہ اگر سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد کے ذریعے وہ مقبوضہ عرب علاقوں پر اسرائیلی قبضہ ختم کرنے میں ناکام ہوئے تو اسرائیل کے ساتھ جاری ہر قسم کا تعاون ختم کر دیں گے۔

الجزائر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صدر ابو مازن نے ان خیالات کا اظہار الجزائر کے تین روزہ دورے کے دوران ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد پر عمل درآمد نہ ہو سکا تو ہم متبادل قانونی اور سیاسی اقدامات پر مجبور ہوں گے اور ان کے نتائج کی ذمہ داری اسرائیل پر عاید ہو گی۔

محمود عباس نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر ہم فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے سلامتی کونسل کے فورم میں کامیاب نہ ہوئے تو صہیونی ریاست کے ساتھ ہر قسم کا تعاون ختم کر دیں گے اور اس کی ذمہ داری اسرائیل پرعاید ہو گی۔

خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سےگذشتہ ہفتے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں ایک قرارداد کا مسودہ جمع کرایا گیا ہے جس میں دوسال کے اندرفلسطین میں اسرائیل کے ناجائز قبضے کے خاتمے کا ٹائم فریم دینے کا مطالبہ کیا گیاہے۔ دوسری جانب امریکا نے فلسطینی اتھارٹی کی قرارداد کو سلامتی کونسل نے ویٹو کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

یہ قرارداد سلامتی کونسل کے واحد مستقل عرب رکن ملک اردن کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس میں مشرق وسطیٰ میں منصفانہ اور دیرپا قیام امن کے مطالبے کے ساتھ بارہ ماہ میں فلسطینی ریاست کے قیام کے اعلان اور سنہ 1967ء کی حدود میں نئی فلسطینی مملکت کےقیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

الجزائر میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا کہ ہم اپنے تمام دیرینہ حقوق کے حصول کے لیے پر عزم ہیں۔ ہمارے بنیادی مطالبات میں فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی اور آبادکاری، اسرائیلی جیلوں میں قید تمام فلسطینی اسیران کی غیر مشروط رہائی اور فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے مظالم کا خاتمہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا حل مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کنجی ہے۔