.

موصل میں 'داعش' کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی سیکیورٹی فورسز نے شمالی شہر موصل میں دولت اسلامی 'داعش' کے خلاف زمینی اور فضائی آپریشن میں پیش قدمی کرتے ہوئے تنظیم کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے جس کے بعد جنگجو جنوب میں الانبار گورنری کی طرف فرار کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب شمالی علاقوں بیجی اور سنجار میں بھی داعش کے خلاف بھرپور جنگ جاری ہے۔

'العربیہ' ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الانبار گورنری میں عسکریت پسندوں کی پیش قدمی کی اطلاعات ہیں تاہم سنجار اور بیجی میں تنظیم کے ٹھکانوں پر اتحادی فوج نے فضائی حملے جبکہ عراقی اور کرد فوجوں نے زمینی حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

قبل ازیں الانبار کے قبائل نے بھی 'داعش' کے خلاف قومی دفاعی فورس تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ قبائل کے مطابق وہ فوج اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کو شکست دینے کے لیے ہرممکن قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

عراق کے صوبہ کردستان میں بھی سنی قبائل کا ایک اہم اجلاس حکومت کی نگرانی میں ہوا ہے جس میں عسکریت پسندوں کے خلاف رضا کار بھرتی کرنے اور انہیں اسلحہ اور جنگی تربیت دینے پر کا فیصلہ کیا گیا۔ اربیل کے تمام سنی قبائل نے سرکاری فوج کے شانہ بہ شانہ لڑنے اور دہشت گردوں کو شکست دینے کا عزم کیا ہے۔

دریں اثناء وزیر اعظم حیدر العبادی نے نینویٰ کے ارکان پارلیمان کے ایک وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ وہ ملک میں فرقہ واریت سے پاک سیکیورٹی فورسز کی تشکیل کے لیے قانون سازی کر رہے ہیں۔

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں اردن نے بھی دہشت گرد گروپوں سے نمٹنے کے لیے عراق کے سنی قبائل کی مدد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اردنی حکام کا کہنا ہے کہ عمان، عراقی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی تربیت کے ساتھ قبائل کو بھی دہشت گردی سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنے کو تیار ہیں۔