.

اسرائیلی فوج کے حملے میں حماس کا کارکن شہید

صہیونی فوج کی غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں ایک فضائی حملہ کیا ہے اور توپ خانے سے گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں حماس کا ایک کارکن شہید ہوگیا ہے۔اسرائیلی فوج نے یہ حملہ علاقے میں فائرنگ کے ایک مبینہ واقعے کے بعد کیا ہے۔اس میں سرحدی علاقے میں گشت پر مامور ایک اسرائیلی فوجی زخمی ہوگیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے ٹویٹر پر ایک مختصر تحریر میں غزہ کے جنوبی علاقے میں فلسطینیوں پر فضائی حملے اور فائرنگ کے واقعے میں ایک صہیونی فوجی کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔اسرائیلی فوج نے اگست میں غزہ پر مسلط کردہ پچاس روزہ جنگ کے خاتمے کے بعد یہ دوسرا حملہ کیا ہے۔اس سے پہلے ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے فلسطینی علاقے پر بمباری کی تھی۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس کے مشرق میں حملہ کیا ہے اور لڑاکا طیارے کی بمباری کے علاوہ ٹینک سے گولہ باری کی ہے۔اس میں حماس کے تینتیس سالہ کارکن تیسیر الاسماری شہید ہوگئے ہیں۔

حماس نے ان کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید اس کے عسکری ونگ عزالدین القسام کا کارکن تھا۔دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان پیٹر لرنر نے سرحدی علاقے میں تعینات فوجیوں پر حملے کو جارحانہ قراردیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کی دفاعی فوج اپنے فوجیوں اور سرحدی علاقے کا دفاع جاری رکھے گی۔صہیونی فوج نے غزہ کے کاشت کاروں سے بھی کہا ہے کہ وہ سرحدی علاقے سے دور رہیں۔

حماس کے ترجمان سامی ابو زہری نے صہیونی فوج کے اس موقف کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ''اسرائیلی قبضہ خان یونس کے مشرقی علاقے میں کشیدگی کا ذمے دار ہے۔اسرائیلی فوجیوں نے سرحد پار غزہ میں دراندازی کی کوشش کی تھی۔اس اشتعال انگیزی کا حماس نے جواب دیا ہے''۔

ہفتے کے روز بھی اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں ایک فضائی حملہ کیا تھا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے یہ حملہ جنوبی اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیے جانے کے بعد کیا تھا۔اس کے بعد سے غزہ کی پٹی سے اسرائیلی علاقے کی جانب تین راکٹ فائر کیے گئے ہیں اور علاقے میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔