.

شام:کردوں سے لڑائی میں داعش کے 30 جنگجو ہلاک

امریکی اتحادیوں کی کوبانی ،الرقہ اور دیرالزور میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مشرقی صوبے الحسکہ میں کرد جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں میں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے کم سے کم تیس جنگجو مارے گئے ہیں اور سرحدی شہر کوبانی میں اتحادی طیاروں نے داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ داعش کے جنگجوؤں اور کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) کے مسلح ارکان کے درمیان الحسکہ کے ایک گاؤں قصیّب میں جھڑپیں ہوئی ہیں اور کردجنگجوؤں نے دو روز کی لڑائی کے بعد اس گاؤں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔جھڑپوں میں تین کرد جنگجو مارے گئے ہیں۔

ادھر ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شام کے کرد آبادی پر مشتمل شہر کوبانی پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے جنگی طیاروں نے آٹھ فضائی حملے کیے ہیں۔اس شہر میں داعش اور کرد جنگجوؤں کے درمیان اکتوبر سے لڑائی ہورہی ہے۔شمال مشرقی شہر دیرالزور میں خام تیل اکٹھا کرنے کی ایک جگہ اور الرقہ کے نزدیک داعش کے اسلحے کے ایک ڈپو پر بھی ایک ایک حملہ کیا گیا ہے۔

امریکا کی قیادت میں مشترکہ ٹاسک فورس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پڑوسی ملک عراق کے شہروں القائم ،سنجار ،فلوجہ اور تل عفر میں بھی اتحادی طیاروں نے داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔تاہم فوری طور پر ان حملوں میں جانی اور مالی نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

درایں اثناء شامی فضائیہ نے شمالی صوبے حلب میں داعش کے زیر قبضہ دو علاقوں الباب اور قبسین پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں بارہ افراد مارے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ شام میں گذشتہ قریباً چار سال سے جاری لڑائی کے دوران اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق دو لاکھ سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں اور ملک کی نصف آبادی بے گھر ہوچکی ہے۔