.

بغداد۔انقرہ ملکر داعش کو شکست دینے کے لئے پرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی اور عراق نے دولت اسلامی 'داعش' کے خطرے سے نمٹںے کے لئے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے ترکی سے انٹیلیجنس معلومات اور اسلحے کی عراقی فوج کو فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبات عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے حالیہ دورہ ترکی کے دوران اپنے ترک ہم منصب احمد دائود اگلو کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران پیش کئے۔ حیدر العبادی کا کہنا تھا کہ"ہم خطے کے تمام ممالک کی حمایت اور اپنی قوت یکجا کر کے داعش کو شکست دے سکتے ہیں۔"

حیدر العبادی کا مزید کہنا تھا "داعش نہ صرف عراق اور ترکی بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔"

عراق وزیر اعظم نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے ترکی کو مطالبات کی لسٹ فراہم کی ہے۔ ان مطالبات میں فوجی تعاون، تربیت اور فوجیوں کے لئے اسلحے کی فراہمی شامل ہے۔

اس موقع پر ترک وزیر اعظم دائود اوگلو نے کہا کہ ان کا ملک پہلے ہی عراق کے نیم خودمختار صوبہ کردستان کی عسکری قوت البیش المرکہ کو تربیت دے رہا ہے۔

مسٹر اوگلو کا کہنا تھا کہ ہم بغداد کو مدد فراہم کرنے کے لئے کوئی بھی مشورہ قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔

ترک وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ترکی اور عراق خطے میں تمام دہشت گرد تنظیموں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک مشترکہ حکمت عملی رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ "ہم داعش اور کردستان ورکرز پارٹی [پی کے کے] جیسی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کسی بھی قسم کا تعاون کرنے کو تیار ہیں۔"

ترکی کو انتہا پسند عناصر کو شام میں جا کر لڑنے کے لئے راستہ فراہم کرنے پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کانفرنس کے دوران دائود اوگلو نے اصرار کیا کہ اس اتحاد کا مقصد شامی صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانا بھی ہونا چاہئیے ہے۔

انقرہ، شام کے لئے ایک ایسی جامع حکمت عملی چاہتا ہے جس کے نتیجے میں بشار الاسد اقتدار پر قابض نہ رہ سکے۔ اسی لئے ترک حکام نے متعدد بار شام کے اندر بفر اور نو فلائی زونز قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔