.

داعش نے شام میں طیارہ نہیں مارگرایا:اردن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی شاہی فوج نے عراق اور شام میں برسرپیکار جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کے اس دعوے کی تردید کی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ اس نے اردن کے ایک لڑاکا طیارے کو مار گرایا تھا اور پائیلٹ کو گرفتار کر لیا تھا۔

اردن کے ایک فوجی عہدے دار کا کہنا ہے کہ ''شام کے شہر الرقہ کے علاقے میں بظاہر داعش کے فائر کے نتیجے میں اردن کا فوجی طیارہ گر کر تباہ نہیں ہوا ہے۔ چونکہ طیارے کے ملبے تک رسائی نہیں ہوسکی ہے اور نہ پائیلٹ موجود ہے،اس لیے فی الوقت ہم حادثے کے سبب کے بارے میں کچھ بھی نہیں کَہ سکتے ہیں''۔

شام کے شمالی علاقے میں بدھ کو جہادیوں کے خلاف مشن کے دوران اردن کا ایک ایف 16 لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا اور داعش کے جنگجوؤں نے اس کے 26 سالہ پائِیلٹ لیفٹیننٹ معاذ ال معاذ الكساسبۃ کو گرفتار کر لیا تھا۔ان کے والد نے داعش سے اپنے بیٹے کی جان بخشی کی اپیل کی ہے۔

امریکی فوج نے بھی داعش کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ اس نے طیارے پر میزائل داغا تھا۔اس کا کہنا ہے کہ شواہد بالکل واضح ہیں کہ داعش نے اردنی طیارے کو نہیں مارگرایا ہے۔

امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی شام میں داعش اور دوسرے جہادیوں کے خلاف ستمبر سے جاری فضائی مہم کے دوران ان کا یہ پہلا طیارہ گر کر تباہ ہوا ہے۔داعش کے جنگجو اس کو اپنی ایک اہم کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔اردن سمیت بعض عرب ممالک کے لڑاکا طیارے بھی شام میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔