.

شامی فضائیہ کے حملوں میں 45 شہری ہلاک

72 گھنٹوں میں شامی فوج کے 470 فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر حملے تیز کردیے ہیں اور اسدی فضائیہ نے سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کے زیر قبضہ شہروں اور قصبوں پر تباہ کن بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں پینتالیس شہری ہلاک اور ایک سو پچھتر زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں کی اطلاع کے مطابق شامی فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں اور جنگی طیاروں نے صوبہ حلب کے شمال مشرق میں واقع شہروں الباب اور قباسین پر بیرل بم اور بارود سے بھرے ڈرم پھینکے ہیں۔

قباسین کے ایک مکین یوسف السعدی کا کہنا ہے کہ ''لوگ ایک مارکیٹ میں موجود تھے اور یہ سب غریب غرباء تھے۔وہاں کوئی مسلح گروپ نہیں تھا لیکن اس کے باوجود شامی طیاروں نے ان پر بمباری کی ہے۔بشارالاسد اپنے ہی لوگوں کو کیوں مار رہے ہیں؟ اللہ ان سے انتقام لے''۔

شام کے سرکاری میڈیا نے ایک لاکھ آبادی والے شہر الباب پر فضائی حملے کو رپورٹ نہیں کیا ہے۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اسدی فوج کے الباب پر فضائی حملے میں سینتیس شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ گذشتہ بہتر گھنٹے کے دوران شامی فضائیہ نے دمشق کے نواحی علاقوں سمیت داعش کے زیر قبضہ شہروں پر 470 فضائی حملے کیے ہیں اور ان میں ایک سو دس شہری مارے گئے ہیں۔

دمشق کے نواح میں واقع باغیوں کے زیر قبضہ علاقے زبدین میں حکومت نوازوں نے جانیں بچا کر نکلنے والے لوگوں پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شامی فوج نے بھی امریکا کی قیادت میں ستمبر سے شام میں داعش کے خلاف فضائی مہم کے آغاز کے بعد سے باغیوں پر حملے تیز کررکھے ہیں اور اس نے گذشتہ تین روز میں ديرالزور، حمص، دمشق، دمشق کے نواحی علاقوں ، اللاذقية، القنيطرة، حماة، حلب، إدلب، درعا، الحسكة اور الرقة پر تباہ کن بمباری کی ہے۔

شامیہ فرنٹ

درایں اثناء شام کے شمالی صوبے حلب میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار باغی گروپوں نے شامیہ محاذ کے نام سے ایک اتحاد تشکیل دیا ہے۔

آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق نئے اتحاد میں اسلامی محاذ سمیت مختلف گروپوں نے شمولیت اور ایک قیادت اور جھنڈے تلے لڑنے سے اتفاق کیا ہے۔ان میں مجاہدین آرمی، نورالدین زنگی بریگیڈز اور دوسرے گروپ شامل ہیں۔