.

عراقی فوج نے الانبار کے 14 دیہات داعش سے آزاد کرا لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شورش زدہ صوبے الانبار کےپولیس چیف میجر جنرل کاظم الفہداوی نے کہا ہے کہ عراقی فورسز نے قبائل کی مدد سے مغربی انبار کے جزیرہ البغدادی اور اس سے ملحقہ 14 دیہات سے دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے جنگجوئوں کو شکست دینے کے بعد ان علاقوں کو آزاد کرالیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عراق کے محاذ جنگ سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ صلاح الدین گورنری کے جنوبی علاقے یثرب میں قبائل اور عراقی سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کر کے کئی قصبوں کا کنٹرول سنھبال لیا ہے۔

شمالی تکریت کی جانب سے بھی عراقی فوج نے پیش قدمی کی ہے جبکہ کرد فوج نے شمالی اور وسطی سنجار کے علاقوں میں اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کے بعد عسکریت پسندوں کو سنجار کے جنوبی علاقوں میں محصور کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق داعش کے دہشت گردوں نے الانبار کے مختلف علاقوں پر قبضے کے لیے حملے کیے ہیں تاہم عراقی فوج نے مقامی قبائلی جنگجوئوں اور اتحادی فوج کے فضائی حملوں کی مدد سے داعش کو شکست دے دی ہے۔ قدرتی تیل کی دولت سےمالا مال بیجی میں بھی عراقی فوج نے پیش قدمی کی ہے۔

عراقی کے عسکری ذرائع کے مطابق اتحادی فوج کے جنگی طیاروں نے صلاح الدین گورنری کے قریب دیالی شہرمیں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق عراقی فوج اور قبائل امن لشکر جنوبی تکریت میں الدور، العلم، الشرقاط اور دیگر مقامات پر شدت پسندوں کے خلاف ایک بڑے زمینی آپریشن کی تیاری شروع کی ہے۔ یہ آپریشن کسی بھی وقت شروع کیا جا سکتا ہے۔

خیال ہے کہ الانبار میں یثرب، جنوبی صلاح الدین اور ضلوعیہ میں عراقی فوج کا آپریشن پچھلے پانچ روز سے مسلسل جاری ہے۔ عراقی فوج نے یثرب کالونی پر قبضے کے بعد سامرا کی مرکزی شاہراہ پر قبضہ کر کے نہ صرف ضلوعیہ کے فوجی اڈے پر قبضہ کیا ہے بلکہ عسکریت پسندوں کی سپلائی لائن بھی کاٹ دی ہے۔ عراقی فوج نے عسکریت پسندوں کی جانب سے بچھائی گئی بھاری مقدار میں بارودی سرنگیں بھی ناکارہ بنا دی ہیں۔

عراقی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق داعشی جنگجوئوں نے شمالی تکریت میں اپنے دفاع کے لیے خندقیں کھود رکھی ہیں تاہم فوج اگلے چند ایام میں شمالی تکریت کے علاقے الشرقاط میں داعش کےخلاف آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔