.

داعش پر اتحادیوں کے نئے 39 فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوجی حکام نے بتایا ہے کہ اتحادی ممالک نے دولت اسلامی 'داعش' کے جنگجوؤں پر انتالیس تازہ فضائی حملے کیے ہیں۔ ادھر شامی فضائیہ کی کارروائی میں حلب میں سات بچوں سمیت باون افراد کے ہلاک ہونے کی خبر بھی موصول ہوئی ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے متحدہ ٹاسک فورس کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی فضائیہ نے شام و عراق میں فعال داعش کے سنی انتہا پسندوں کے ٹھکانوں پر انتالیس نئے حملے کیے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کے دن کیے گئے ان فضائی حملوں میں جہادیوں کو شدید نقصان بھی پہنچا ہے۔

ٹاسک فورس کے مطابق جنگی، بمبار اور ریموٹ کنٹرول جہازوں کے ذریعے شام میں انیس جبکہ عراق میں بیس فضائی حملے کیے۔ اطلاعات کے مطابق شام کی کارروائی میں توجہ کوبانی پر مرکوز رکھی گئی، جہاں اسلامک اسٹیٹ کے جنگجو ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں میں داعش کی متعدد عمارتوں، گاڑیوں اور جنگی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا۔ اسی طرح شامی شہر الحکسہ میں دو جبکہ الرقہ میں ایک فضائی حملہ کیا گیا۔ ان حملوں میں بھی جہادیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

عراق میں کی گئی کارروائی میں الاسد، کوہ سنجار، موصل، القائم، بیجی، کرکوک، فلوجہ اور تلعفر میں فعال داعش کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ ادھر داعش نے جمعہ کے دن ہی دعویٰ کیا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے جنوبی بغداد میں خود کش حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اڑتیس افراد مارے گئے۔ اس حملے میں ایسے شیعہ جنگجووں کو نشانہ بنایا گیا، جو داعش کے خلاف عراقی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔

درایں اثناء انسانی حقوق کی شامی آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ حلب میں شامی فضائیہ کی کارروائی میں سات بچوں سمیت مجموعی طور پر باون شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

رامی عبدالرحمان کے بقول جعمرات کے دن الباب میں شامی فضائیہ نے داعش کے کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، ’’کم از کم باون شہری مارے گئے، جن میں سات بچے، تین نو عمر اور دو خواتین بھی شامل تھیں۔‘‘

یہ امر اہم ہے کہ انسانی حقوق کے کارکنان کا الزام ہے کہ شامی فوج نے باغیوں کے خلاف کارروائی میں زیادہ تر شہریوں کو ہی ہلاک کیا ہے۔ جولائی 2012ء میں شامی فوجی نے حلب میں کارروائی شروع کی تھی اور تب اس اب تک وہاں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں نے دمشق حکومت سے بار ہا درخواست کی ہے کہ باغیوں کو نشانہ بنانے کے لیے شہری علاقوں پر فضائی حملوں سے گریز کیا جائے۔