.

داعش نے 2000 افراد موت کے گھاٹ اتار دیے

سنی قبیلے شعیطات کے 930 ارکان بھی بہیمانہ انداز میں قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) نے جون میں شام میں اپنی ''خلافت'' کے اعلان کے بعد سے قریباً دو ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا ہے۔ان میں قریباً نصف تعداد شام کے ایک اہم سنی قبیلے کے افراد کی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ داعش نے 28 جون کو شام میں اپنی خلافت کا اعلان کیا تھا۔اس کے بعد سے 27 دسمبر تک اس نے 1878 افراد کو سزا کے طور پر موت کے گھاٹ اتارا ہے۔

ان میں مشرقی صوبے دیرالزور سے تعلق رکھنے سنی قبیلے شعیطات کے 930 ارکان شامل ہیں۔اس قبیلے نے داعش کی مخالفت کی تھی اور اس کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

قبل ازیں 17 دسمبر کو آبزرویٹری نے دیرالزور میں شعیطات قبیلے کے دو سو تیس افراد کی اجتماعی قبر دریافت ہونے کی اطلاع دی تھی۔ان تمام افراد کو سروں میں گولیاں ماری گئی تھیں،ان کے سرقلم کیے گئے تھے یا پھر انھیں سنگسار کرکے موت سے ہم کنار کیا گیا تھا۔

آبزرویٹری شام بھر میں پھیلے ہوئے اپنے کارکنان کے نیٹ ورک کے ذریعے اور اسپتال کے ذرائع سے ہلاکتوں کے اعداد وشمار اکٹھے کرتی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ داعش نے شام کے صوبوں حلب ،دیرالزور ،حماہ ،حمص،الحسکہ اور الرقہ میں اپنے مخالفین کو بہیمانہ انداز میں قتل کیا ہے۔

داعش کے ہاتھوں مرنے والوں میں 1175 عام شہری ہیں۔ان میں چار بچے اور آٹھ خواتین شامل ہیں۔داعش کے جنگجوؤں نے 502 فوجیوں اور حکومت نواز ملیشیا کے ارکان کو بھی سزا کے طور پر ہلاک کیا ہے۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ داعش نے اپنے مخالفین کے ساتھ ساتھ اپنے ہی ارکان کی بھی جان بخشی نہیں کی ہے اور اس کے جنگجوؤں نے اپنے آبائی ملک کو لوٹنے کے لیے فرار کی کوشش کرنے والے 120 ارکان کو موت کے گھاٹ اتاردیا ہے۔اس کے علاوہ اپنی حریف تنظیم شام میں القاعدہ کی شاخ النصرۃ محاذ کے بھی 80 ارکان کو قتل کردیا ہے۔

آبزرویٹری نے داعش کے ہاتھوں مرنے والوں کی یہ تمام تفصیل بیان کی ہے۔اس کے باوجود اس کا کہنا ہے کہ اس سخت گیر جنگجو گروپ کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔