.

اسد اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں مصری معاونت

مسئلے کے حل کے لیے فوجی مداخلت سے گریز کی پالیسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے شام میں جاری بحران کے حل کے لیے بات چیت پر زور دیتے ہوئے ایک بار پھر شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمتی کوششوں کو آگے بڑھانے میں ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ قاہرہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مسئلے کے حل کے لیے غیر ملکی فوجی مداخلت کی حمایت نہیں کرتی بلکہ تنازعے کو سیاسی انداز میں حل کرنے پر زور دیتی رہے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری حکومت کی طرف سے یہ موقف شامی اپوزیشن کے کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران سامنے آیا۔ مصر کا کہنا ہے کہ وہ شامی اپوزیشن اور حکومت کے مندوبین کے درمیان روسی کی میزبانی میں پیش آئند ایام میں ہونے والے مذاکرات سے قبل بات چیت میں معاونت پر تیار ہے۔

مصری وزارت خارجہ کے ترجمان بدر عبدالعاطی نے میڈیا کو بتایا کہ شامی اپوزیشن اتحاد کے سربراہ ھادی البحرہ کی قیادت میں اپوزیشن کے ایک وفد نے مصری وزیر خارجہ سامح شکری سے ملاقات کی۔ ملاقات میں مصری وزیرخارجہ نے ان پر واضح کیا کہ قاہرہ شام کے تنازعے کے پرامن حل کا خواہاں ہے۔

مصر، شام کے استحکام، سلامتی اور وحدت کی حمایت جاری رکھے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ شامی عوام کی امنگوں کے مطابق ملک میں جمہوری نظام حکومت کی تشکیل کی بھی حمایت کرے گا۔

ترجمان نے کہا کہ شامی اپوزیشن رہ نمائوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک شام میں بیرونی فوجی مداخلت کی حمایت نہیں کرتا بلکہ مسئلے کے حل کے لیے علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی سیاسی مساعی کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

شامی اپوزیشن کا خیر مقدم

دوسری جانب شامی اپوزیشن کے سربراہ ھادی البحرہ نے شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے مصری حکومت کی مساعی کا اعتراف کیا اور کہا کہ مصری حکومت نے اندرونی مشکلات کے باوجود شام سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں باشندوں کو اپنی سرزمین میں پناہ دے رکھی ہے۔

اس موقع پر ھادی البحرہ نے شام میں جاری خانہ جنگی کی روک تھام کے حوالے سے ہونے والی کوششوں بالخصوص عالمی امن مندوب ڈی میستورا کی جانب سے شام کے بعض شہریوں میں فریقین میں جنگ بندی کی کوششوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم شام میں کسی ایک خاندان کی حکومت کے بجائے پوری قوم کی نمائندہ حکومت کےقیام کے خواہاں ہیں۔

اپوزیشن رہ نما کا کہنا تھا کہ شامی عوام مصر سے ہرممکن معاونت کی توقع رکھتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں جاری عالمی اور علاقائی کوششوں میں مصر اپنا کردار جاری رکھے گا۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ شام کے بحران کا مناسب حل غیر ملکی مداخلت کے بغیر صرف شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی میز پر ہی ہونا چاہیے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری شامی حکومت کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے دبائو ڈالے۔