.

صومالیہ: الشباب رہنما کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی کارروائی

ایک روز قبل الشباب کے انٹیلی جنس چیف نے سرنڈر کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی جنگی طیاروں نے کارروائی کر کے جنوبی صومالیہ میں اسلامی عسکری ملیشیا الشباب کے ایک سینئر رہنما کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی پینٹاگان نے امریکی جنگی طیاروں کی کارروائی کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کا ذکر کیے بغیر اس کارروائی کی تصدیق کر دی ہے۔

امریکا کے فوجی ترجمان رئیر ایڈمرل جان کربی نے کہا ہے یہ کارروائی سکاو میں کی گئی ہے۔ جان کربی نے نشانہ بنائے گئے الشباب چیف کا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔ اس امریکی کارروائی سے کچھ ہی دیر پہلے الشباب کے انٹیلی جنس چیف نے صومالی حکومت اور افریقی یونین کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے۔

جان کربی نے کارروائی کی تصدیق کے حوالے سے بیان میں کہا ہے کہ فوری طور پر وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ یہ بتا سکیں کہ کتنا جانی نقصان ہوا ہے اور آیا اس کارروائی کے دوران کوئی راہگیر بھی مارا گیا ہے یا نہیں۔ پینٹاگان کے ترجمان نے کہا وہ اس کارروائی کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں اور جب مناسب ہو گا اضافی معلومات شئیر کریں گے۔

الشباب عسکری ملیشیا مغرب نواز موغادیشو حکومت کے خلاف سرگرم ہے اور ملک میں اسلام کی انتہا پسندانہ تشریح کا نفاذ کرنا چاہتی ہے۔ اگر اس امریکی کارروائی کے دوران الشباب کا سینئیر رہنما مارا گیا تو یہ الشباب کو پے در پے پہنچنے والے بھاری نقصان کے سلسلے کی اب تک کی آخری کڑی ہو گی۔

واضح رہے ہفتے کے روز صومالی حکام نے اعلان کیا تھا کہ القاعدہ سے منسلک اس افریقی گروپ الشباب کے انٹیلی جنس چیف ذکریا اسماعیل احمد حرسی حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ امریکا نے اس انٹیلی جنس چیف کو گرفتار کرنے کے لیے تیس لاکھ ڈالر کا انعام مقرر کر رکھا تھا۔