.

فلسطینی حکومت پرغزہ میں ناکامی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حماس کے سابق وزیراعظم اسماعیل ہنئیہ نے فلسطین کی قومی اتحاد کی حکومت پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے لیے اپنے وعدے کو ایفاء کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انھوں نے غزہ میں غرب اردن سے ایک وزارتی وفد کی آمد کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں الزام عاید کیا ہے کہ ''حکومت تعمیر نو ، فلسطینی اتھارٹی کے تحت اداروں کو منظم کرنے اور نئے انتخابات کے لیے اپنے وعدوں کو نبھانے میں ناکام رہی ہے''۔

اسماعیل ہنئیہ نے قومی حکومت پر منتخبہ انداز میں امور چلانے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ طریق کار غزہ کے لیے ضرررساں ثابت ہوا ہے۔ان کے بہ قول انھیں ایسی کوئی امید نہیں کہ وزراء کے اس حالیہ دورے سے تمام معاملات سدھر جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''بدقمستی سے حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ وہ تمام فلسطینی عوام کی نمائندہ ہے''۔ان کا یہ بیان حماس کے زیر انتظام الاقصیٰ ٹیلی ویژن سے نشر کیا گیا ہے۔

اس سے قبل سوموار کو رام اللہ سے آٹھ وزراء اور چالیس سے زیادہ اعلیٰ حکومتی عہدے دار غزہ پہنچے تھے ۔ان کے اس دورے کا مقصد غزہ میں تعمیر نو کا کام شروع کرانا اور مجوزہ منصوبوں کا جائزہ لینا ہے۔

حماس اور فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح کے درمیان اتفاق رائے کے بعد جون میں غزہ اور مغربی کنارے میں کی قومی اتفاق رائے کی ایک ہی حکومت قائم ہوئی تھی اور اس کے ساتھ ہی ان دونوں علاقوں میں فلسطینی اتھارٹی اور حماس کی الگ الگ متوازی حکومتوں کا خاتمہ ہوگیا تھا۔

قومی حکومت میں ٹیکنوکریٹس شامل ہیں۔اس کے اقتدار سنبھالنے کے وقت دونوں فلسطینی علاقوں میں مشترکہ گورننس اور نئے انتخابات کا انعقاد اس کا مینڈیٹ قرار پایا تھا۔بعد میں جولائی اور اگست میں اسرائیل کی مسلط کردہ جارحانہ جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کو بھی اس کے فرائض میں شامل کرلیا گیا تھا۔

گذشتہ ماہ غزہ میں فتح کے عہدے داروں کے گھروں اور گاڑیوں میں پے درپے بم دھماکے ہوئے تھے اور فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت نے حماس پر ان دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔ان دھماکوں کے بعد وزیراعظم رامی حمداللہ نے غزہ کا اپنا طے شدہ دورہ منسوخ کردیا تھا۔

اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کے شہروں اور قصبوں میں چھیانوے ہزار سے زیادہ مکانات تباہ اور ایک لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے تھے۔ابھی تک غزہ کی تعمیرنو کا کوئی منصوبہ شروع نہیں ہوسکا ہے۔ فلسطینی حکام نے اسرائیل کو اس تاخیر کا ذمے دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے اہم تعمیراتی سامان کو غزہ میں لانے پر پابندی عاید کررکھی ہے۔