.

مصر:یہود کے میلے پر مستقل پابندی عاید

عدالت کا یہودی ربی کے مزار کو سیاحتی مقامات سے خارج کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے یہود کے سنہ 1979ء سے جاری ایک میلے پر مستقل طور پر پابندی عاید کردی ہے اور حکومت کو اس میلے کی جگہ کا نام سرکاری مقابر ومزارات کی فہرست سے خارج کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اس نے گذشتہ سال یہودی ربی یعقوب ابو حصیرہ کے مزار پر تین روزہ میلے کے دوران غیر اخلاقی سرگرمیوں کی بنا پر پابندی عاید کی ہے۔تاہم عدالت نے ان غیر اخلاقی سرگرمیوں کی وضاحت نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ مصر اور دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے یہودی ہر سال یکم جنوری کو انیسویں صدی سے تعلق رکھنے والے ربی یعقوب ابو حصیرہ کے مزار پر میلے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔یہ میلہ 1979ء میں اسرائیل اور مصر کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد سے منایا جارہا ہے۔سنہ 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اس کا انعقاد نہیں کیا گیا تھا۔

اب عدالت کے فیصلے کے بعد اس میلے پر مستقل پابندی لگا دی گئی ہے۔البتہ اگر کوئی اعلیٰ عدالت یہود کی اپیل پر اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیتی ہے تو پھر اس کا انعقاد ممکن ہو سکے گا۔

عدالت نے حکومت کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ سنہ 2001ء میں نیل ڈیلٹا کے علاقے بحیرہ میں واقع یہودی ربی کے مزار کو سیاحتی مقام قرار دینے کے فیصلے کو بھی واپس لے اور اس کا نام تسلیم شدہ مزارات کی فہرست سے خارج کرے۔علاقے کے مکینوں نے ماضی میں میلے کے دوران امن وامان کی صورت حال خراب ہونے کی شکایت کی تھی۔