.

سلامتی کونسل: فلسطین پر ووٹنگ اسرائیل کا اظہار 'اطمینان '

قرارداد پر ووٹنگ سے مذاکرات کی اہمیت بڑھ گئی: یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فلسطینی ریاست کے حق میں اسرائیلی قبضے کے خلاف نظام الاوقات کے مطالبے پر مبنی قرارداد مسترد ہونے پر اطیمنان ظاہر کیا ہے۔ یورپی یونین نے ووٹنگ کو مذاکرات کے لیے سنجیدگی بڑھانے کا تقاضا قرار دے دیا۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ دوہزار سترہ تک اسرائیل فلسطینی علاقوں کا قبضہ چھوڑ دے، مشرقی یروشلم کو آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنایا جائے اور اسرائیلی کی طرف سے یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ بند کیا جائے۔

اسرائیل کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی ٘مخالفت کی بنیاد پر ناکام ہونے والی اس قرارداد کے حوالے سے کہا ہے کہ '' ہر امن چاہنے والا اسرائیلی اس قرارداد پر ووٹ کے نتائج سے مطمئن ہو سکتا ہے۔''

اسرائیل کے نائب وزیر خارجہ نے اس امر کا اظہار ایک پبلک ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں کیا ہے۔ مسترد کی گئی قرارداد کے حق میں آٹھ ووٹ آئے جبکہ قرارداد کی کامیابی کے لیے کم از کم نو ووٹ مطلوب تھے۔

دریں اثناء یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیدیریکا کا کہنا ہے کہ '' ووٹوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کو جلد سے جلد مذاکراتی عمل شروع کرنا چاہیے، نیز بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے کامیابی پر توجہ مرکوز رکھے۔''

واضح رہے اس قرارداد کے بعد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اقدامات پر یورپی یونین کی رائے تقسیم نظر آئی ہے فرانس اور لکسمبرگ نے فلسطین کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ جبکہ برطانیہ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربرہ نے کہا تمام فریق چاہتے ہیں کہ دو ریاستی حل تک پہنچنے کے لیے جامع امن مذاکرات ممکن بنائے جائیں، تاکہ دوطرفہ بقائے باہمی، امن اور سلامتی کے اصولوں کے تحت آگے بڑھا جا سکے۔''

انہوں نے مزید کہا '' یورپی یونین مذاکرات کے لیے واضح اور متعین اقدامات کی حامی ہے ایسے ٹھوس اقدامات جو کامیابی کی کلید ثابت ہوں اور یہ راستہ اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق طے ہونا چاہیے۔''

یورپی یونین نے ایک مرتبہ پھر اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ فریقین جلد سے جلد مذاکرات کا آغاز کریں، نیز ایسے کسی بھی اقدام سے باز رہیں جو دو ریاستی حل کی پائیداری کو نقصان پہنچانے والا ہو۔

یورپی یونین نے اس ناطے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی تعمیر بطور خاص مذمت کی ہے۔ خارجہ امور کی سربراہ نے کہا ''یورپی یونین اب ماضی سے بھی زیادہ مذاکرات کی حمایت کرے گی۔''