.

ایران۔عراق میں دفاعی تعاون کا سمجھوتہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور عراق نے دفاعی تعاون کے ایک نئے دوطرفہ سجھوتے پر اتفاق کیا ہے۔ دوطرفہ دفاعی تعاون کے سمجھوتے پر ایران کی جانب سے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل حسن دھقان اور ان کے عراقی ہم منصب خالد العبیدی نے تہران میں دستخط کیے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دوطرفہ دفاعی تعاون کے سمجھوتے کے تحت دونوں ملکوں نے دفاعی میدانوں میں تعاون بڑھانے اور دفاعی شعبے میں طے پائے سابقہ معاہدوں پر عمل درآمد پر بھی اتفاق کیا ہے۔

دونوں ملکوں کے مابین دفاع تعاون کے معاہدے کے تحت عراق کے لیے ایک مضبوط فوج کی تشکیل میں مدد فراہم کرنا بھی شامل ہے جو عراق کے استحکام اور اس کی سلامتی کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے سکے۔ دونوں ملک اس سلسلے میں ایک دوسرے کے ساتھ مشاورتی عمل جاری رکھیں گے۔

دوطرفہ دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عراقی وزیر دفاع خالد العبیدی کا کہنا تھا کہ "ان کا ملک خطے کے تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ کھلے دل سے تعلقات کے قیام پر تیار ہے۔" انہوں نے کہا کہ دہشت گردی تمام ممالک کے لیے خطرہ ہے اور اس ناسور سے نمٹنے کے لیے خطے کے تمام ممالک کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لے ایران سمیت تمام ممالک کو باہمی تعاون کو فروغ دینا ہو گا۔
اس موقع پر ایرانی وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل حسین دھقانی نے کہا کہ تہران کی جانب سے عراقی فوج کی مدد خطے میں ایران کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

قبل ازیں عراقی وزیردفاع سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایران کی سپریم سیکیورٹی کونسل کے چیئرمین علی شمخانی کا کہنا تھا کہ عراق کی ایک انچ زمین بھی دہشت گردوں کے قبضے میں نہیں رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عراق کے مادی اور انسانیی وسائل کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کی کمر ٹوٹ چکی ہے مگراس کا مکمل صفایا اس وقت تک نہیں کیا جاسکتا جب تک بیرون ملک سے دہشت گردوں کو ملنے والی مالی معاونت ختم نہیں ہوتی۔