.

عراق میں گذشتہ سال 15 ہزار افراد مارے گئے

تشدد کے واقعات میں 2007ء کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی حکومت کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ سال کے دوران ملک میں تشدد کے واقعات میں پندرہ ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔

عراق میں سنہ 2007ء کے بعد ایک سال میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق عراق میں تشدد کے واقعات میں بائیس ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جنگ زدہ ملک میں سب سے زیادہ ہلاکتیں شمالی شہروں میں ہوئی ہیں جہاں اس وقت داعش اور عراقی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔شمالی شہر موصل میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے جون میں یلغار کی تھی اور چند ہی روز میں انھوں نے موصل کے علاوہ متعدد شمالی شہروں پر قبضہ کر لیا تھا۔ داعش نے عراق اور شام میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں اپنی خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

عراقی فوج نے ابتدا میں داعش کے جنگجوؤں کی بالکل بھی مزاحمت نہیں کی تھی اور وہ اپنے بھاری ہتھیار، اسلحہ اور گولہ بارود کے علاوہ اپنی وردیاں تک چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔داعش کی فتوحات کا سلسلہ روکنے کے لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اگست میں شمالی عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کیے تھے۔

اس دوران داعش کے جنگجوؤں نے اپنے مخالفین کا قتل عام کیا ہے جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کی بمباری میں داعش کے سیکڑوں جنگجو مارے گئے ہیں۔ان کی فتوحات کا سلسلہ بھی رُک چکا ہے اور انھیں برسرزمین عراقی اور کرد فورسز کے مقابلے میں پسپائی کا سامنا ہے۔تاہم داعش کے جنگجو اور دوسرے گروپ بغداد سمیت ملک کے شہروں اور علاقوں میں خودکش بم حملے کرتے رہتے ہیں اور ان دھماکوں میں بھی ہزاروں کی تعداد میں عام شہری مارے گئے ہیں۔