.

کرد فورسز کا کوبانی کے 70 فی صد حصے پر قبضہ

امریکی اتحادیوں کی بمباری کے بعد داعش کے جنگجو پسپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شہر کوبانی ( عین العرب) میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کو پسپائی کا سامنا ہے اور کرد فورسز نے شہر کے ستر فی صد حصے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بدھ کو اطلاع دی ہے کہ کرد فورسز پیپلز پروٹیکشن یونٹ (وائی پی جی) نے امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے فضائی حملوں کی مدد سے چار ماہ کی لڑائی کے بعد داعش کے جنگجوؤں کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا ہے۔کرد فورسز نے منگل اور بدھ کو کوبانی کے جنوبی حصے میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں نمایاں پیش قدمی کی ہے اور انھیں وہاں سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔

اس دوران بدھ کو امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے شام کے مختلف علاقوں میں سات فضائی حملے کیے ہیں اور ان میں سے پانچ حملے کوبانی کے نزدیک داعش کے ٹھکانوں پر کیے گئے ہیں۔امریکی اتحادیوں نے پورے ماہ دسمبر کے دوران کم وبیش روزانہ ہی کوبانی اور اس کے گرد ونواح میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے اور یہی بمباری دراصل داعش کے سخت گیر جنگجوؤں کی پسپائی کا سبب بنی ہے۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ کرد جنگجوؤں کا شہر کے جنوبی اور وسطی حصے پر مکمل کنٹرول ہوچکا ہے اور مغربی حصے پر بھی کم وبیش ان کا قبضہ ہوچکا ہے۔یہ علاقہ ترکی کی سرحد تک پھیلا ہوا ہے۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ ''کوبانی امریکا کی قیادت میں فورسز اور برسرزمین موجود فورسز کے درمیان رابطے اور تعاون کی عمدہ مثال ہے۔امریکی اتحادیوں کے لڑاکا طیاروں کے روزانہ حملوں سے کوبانی میں داعش کے ٹھکانے تباہ ہوگئے تھے۔اگر یہ فضائی حملے نہ ہوتے تو آج کوبانی پر داعش کا مکمل کنٹرول ہوچکا ہوتا مگر اب اس کے بجائے کرد فورسز شہر پر مکمل قبضے کے قریب ہیں''۔

واضح رہے کہ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ شام میں داعش کے خلاف لڑائی کے لیے اعتدال پسند باغی گروپوں کو مسلح کرنا چاہتا ہے لیکن شامی باغیوں کا کہنا ہے کہ امریکا کا یہ منصوبہ غیر یقینی کی صورت حال سے دوچار ہے۔بعض تجزیہ کاروں کے بہ قول امریکا کے لیے اعتدال پسند اور شدت پسند باغیوں کے درمیان حد فاصل قائم کرنا مشکل ہوگا کیونکہ بہت سے محاذوں پر یہ ہر دو گروپ مل کر شامی فوج کے خلاف لڑرہے ہیں اور بعض دوسرے محاذوں پر ان کی آپس میں باہمی لڑائیاں ہورہی ہیں۔