.

گذشتہ سال: یہودیوں کی اسرائیل آمد میں ریکارڈ اضافہ

دنیا بھر سے چھبیس ہزار پانچ سو یہودی اسرائیل منتقل ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر سے یہودیوں کی اسرائیل آمد کی غیر معمولی تعداد کے حوالے سے گذشتہ سال اہم ترین رہا۔ اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ گذشتہ سال کے دوران یہودیوں نے اسرائیل میں بسنے کے لیے پچھلے پورے عشرے سے زیادہ دلچسپی ظاہر کی ہے۔

سرکاری طور پر سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس کے دوران چھبیس ہزار پانچ سو نئے یہودی اسرائیل منتقل ہوئے ہیں۔ واضح رہے یہ اعداد و شمار ایک ایسے یہودی ادارے کی طرف سے سامنے لائے گئے ہیں جس کا مقصد ہی دنیا بھر سے یہودیوں کی اسرائیل آمد کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

اس ادارے کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق یہودیوں کی اسرائیل آمد گذشتہ سے پیوستہ سال کے مقابلے میں بتیس فیصد زیادہ رہی ہے۔ مذکورہ یہودی ادارے کے سربراہ نے کہا یہ سال ایک طرح سے پچھلے برسوں کا ریکارڈ توڑنے والا رہا۔

ان کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے ''گذشتہ برس سامنے آنے والی ایک غیر معمولی بات یہ بھی ہے کہ اس دوران یہودیوں کی بڑی تعداد آزاد اور خوشحال دنیا سے اسرائیل پہنچی ہے نہ کہ ان ممالک سے جہاں مسائل اور مجبوریاں زیادہ ہیں۔ ''

رپورٹ کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ فرانس کی طرف سے بھی بڑی تعداد یعنی چھ ہزار چھ سو یہودی اسرائیل منتقل ہوئے ہیں۔ اس سے قبل سال دوہزار تیرہ میں فرانس سے اسرائیل آنے والوں کی تعداد تین ہزار چار سو رہی تھی۔

رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی یورپ سے اسرائیل پہنچنے والوں میں گذشتہ برس اٹھاسی فیصد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے مغربی یورپ سے آٹھ ہزار چھ سو چالیس یہودیوں نے اسرائیل منتقل ہونے کا فیصلہ کیا اور اسرائیل پہنچے۔

رپورٹ میں مختلف یورپی ملکوں سے آنے والوں کی تعداد اس طرح بیان کی گئی ہے، برطانیہ سے چھ سو بیس، اٹلی سے تین سو چالیس، بیلجیم سے دو سو چالیس، جرمنی سے ایک سو بیس یہودی اسرائیل پہنچے ہیں۔ ا س کے مقابلے میں روس سے گیارہ ہزار چار سو تیس یہودیوں کی اسرائیل منتقلی ہوئی ہے۔