.

ICC میں شمولیت پر اسرائیل، امریکا محمود عباس سے نالاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دو سال تک فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیلی تسلط کے خاتمے کی ڈیڈ لائن مقرر کرانے کے سلسلے میں عرب ممالک کی قرارداد کی ناکامی کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے عالمی فوجداری عدالت میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے جس پر امریکا اور اسرئیل نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے عالمی فوج داری عدالت کے معاہدہ روم پر دستخط کرتے ہوئے اس میں شمولیت کا اعلان کیا۔ انہوں نے گذشتہ روز عالمی عدالت انصاف کے علاوہ تقریباً 20 دوسرے عالمی اداروں میں شمولیت کے معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔

صدر محمود عباس نے عالمی اداروں میں شمولیت کے معاہدوں پر دستخط ’فتح‘ کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور تنظیم آزادی فلسطین کے ایک عظیم الشان اجتماع کے موقع پر کیا۔ فلسطین کے سرکاری ٹیلی ویژن نے عالمی معاہدوں پر دستخط کی رسم براہ راست نشر کی۔

سخت امریکی مخالف

فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں شمولیت کی درخواست پر امریکا نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عالمی عدالت سے فلسطینی اتھارٹی کا رجوع’غیر تعمیری‘ فیصلہ ہے۔

بیان کے مطابق صدر محمود عباس کی جانب سے عالمی عدالت سے رجوع کے فیصلے سے فلسطینی قوم کے مطالبات اور امنگوں کی ترجمانی نہیں ہو گی اور نہ ہی اس نوعیت کے اقدامات سے خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

فرانسیسی سفیر کی طلبی

فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے عالمی فوج داری عدالت سے رجوع کے فیصلے پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتین یاھو نے بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف سے فلسطینی اتھارٹی کو خوف زدہ ہونا چاہیے جس نے ایک دہشت گرد تنظیم’’حماس‘‘ کو شریک اقتدار کر رکھا ہے۔

قبل ازیں اسرائیلی وزارت خارجہ نے تل ابیب میں متعین فرانسیسی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے پیرس کی جانب سے سلامتی کونسل میں فلسطینی قرارداد کی حمایت پر سخت احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان ایمانویل نخشون نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تل ابیب میں متعین فرانسیسی سفیر مسٹر پیٹرک میزناف کو جمعہ کے روز دفتر طلب کیاہے تاکہ سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کی حمایت پر پیرس سے احتجاج کیا جا سکے۔

ترجمان نے کہا کہ ہم فرانسیسی سفیر سے استفسار کریں گے کہ آخر ان کے ملک نے سلامتی کونسل میں فلسطینی اتھارٹی کی پیش کردہ قرارداد کی کیوں کر حمایت کی تھی؟

خیال رہے کہ کل بدھ کے روز فلسطینی ریاست کے نظام الاوقات سے متعلق عرب ممالک کی جانب سے پیش کی گئی قراد پر رائے شماری ہوئی۔ امریکا نے یہ قرارداد اسرائیل کے حق میں ویٹو کر دی تھی تاہم فرانس اور آٹھ دوسرے رکن ممالک نے قرارداد کی حمایت کی تھی۔