.

النصرہ فرنٹ نے یرغمال اطالوی خواتین کی ویڈیو جاری کر دی

خواتین کی اپنی حکومت سے رہائی کی کوشش کرنے کے لیے اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں عسکریت پسندوں کی زیر حراست اٹلی سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے۔ اکتیس دسمبر کو سامنے آنے والی ویڈیو کو بظاہر النصرہ فرنٹ سے جوڑا گیا ہے کہ اٹلی کی دونوں خواتین اسی کی حراست میں ہیں۔

دونوں خواتین جن کے نام وینیسا مرزولو اور گریٹا رامیلی بتائے گئے ہیں نے اطالوی سے اپیل کی ہے ان کی رہائی کے کے لیے کوشش کی جائے۔

دونوں خواتین نے اس کے باوجود کہ ان کی ویڈیو اکتیس دسمبر کو منظرعام پر آئی ہے یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ ان کی رہائی کرسمس سے پہلے ممکن بنائی جائے تاکہ کرسمس کے موقع پر اپنے گھروں میں ہوں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو کرسمس سے کافی دن پہلے تیار کی گئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق دونوں اطالوی خواتین کو ماہ اگست میں عسکریت پسندوں نے گرفتار کیا تھا۔ جبکہ ان کی ویڈیو میں شامل ایک کاغذ سے لگتا ہے کہ یہ سترہ دسمبر یا اس کے بعد بنائی گئی ہے۔

ویڈیو میں ایک دیوار کے سامنے بٹھائی گئی ان خواتین نے سیاہ لباس پہن رکھاہے اور ان میں سے ایک نے سترہ دسمبر کی تاریخ کے اندراج کے ساتھ ایک کاغذ پکڑا ہوا ہے۔ جبکہ دوسری خاتون بولتے ہوئےاپنی حکومت سے رہائی کی کوششوں کے لیے کہہ رہی ہے۔

عسکریت پسندوں کی تیار کردہ اس تئیسویں وڈیو میں عسکری گروپ کی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے، البتہ ویڈیو کو اپ لوڈ کرتے ہوئے اس کا ٹائٹل النصرہ فرنٹ کے حوالے سے ظاہر کیا گیا ہے کہ النصرہ فرنٹ نے دو اطالوی کارکنوں کو حراست میں لے رکھا ہے۔ ویڈیو میں النصرہ فرنٹ کا پرچم بھی دکھایا گیا ہے۔

ماہ اگست میں اطالوی وزارت خارجہ نے اطالوی خواتین کے عسکریت پسندوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے کی تردید کی تھی۔ تاہم ان کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی تھی۔ دوسری جانب عسکریت پسندوں نے ان کو گرفتار کرنے کی وجہ ان کی حکومت کا عسکریت پسندوں کے خلاف سرگرمیوں میں فعال ہونا بتائی ہے۔

واضح رہے اب تک شام میں سرگرم عسکریت پسند درجنوں امدادی کارکنوں اور مغربی صحافیوں کو یرغمال بنا چکے ہیں۔ اسی طرح ہزاروں شامی شہری بھی چار سال پر پھیلی جنگ کے دوران لا پتہ ہو چکے ہیں۔