.

عراق: جنوبی شہر بصرہ میں تین سنی علماء قتل

مسلح افراد کی کار میں سوار علماء پر فائرنگ ،دو شدید زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے ایک واقعے میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے اہل سنت کے تین علماء کو قتل کر دیا ہے۔

عراق کی وزارت داخلہ کے ترجمان سعد معان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ تشدد کا یہ واقعہ بصرہ سے نواح میں واقع سنی آبادی والے علاقے باب الزبیر میں پیش آیا ہے جہاں علماء ایک کار میں سوار کہیں جا رہے تھے اور نامعلوم حملہ آوروں نے ان کی کار پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں تین علماء جاں بحق اور دو شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ اس واقعہ کی تحقیقات کررہی ہے لیکن انھوں نے اس کی مزید تفصیل بیان نہیں کی۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے اور نہ اہل سُنت کی جانب سے کسی جوابی حملے کی اطلاع ہے۔

عراق کے سُنی علمائے دین کی تنظیم نے اس واقعے کے بعد جمعہ کو جاری کردہ بیان میں لوگوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ بصرہ میں فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینے کے لیے کیا گیا ہے۔عراق کے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے ایک بیان میں تنظیم کے سربراہ خالد المولا نے کہ اس حملے سے داعش اور اس کے حامیوں ہی کو فائدہ پہنچے گا۔

درایں اثناء دارالحکومت بغداد کے وسطی علاقے میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں چار شہری ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے ہیں۔بغداد اور بصرہ میں تشدد کے یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب ملک کے شمالی شہروں میں داعش کے خلاف جنگ جاری ہے اور امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے طیاروں نے شمالی شہر موصل میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں پندرہ جنگجو مارے گئے ہیں۔