.

عراق:صوبہ صلاح الدین میں داعش مخالف آپریشن

تین مراحل میں صوبے کو انتہا پسندوں سے پاک کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سنی اکثریتی صوبے صلاح الدین کو داعش کے مسلح جنگجووں سے واگزار کرانے کے لیے سرکاری فورسز نے تین سمت سے فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

صلاح الدین گورنری کی سیکیورٹی کمیٹی کے رکن خالد جسام الخزرجی کے مطابق: "پولیس، پبلک کمیٹیوں اور 19 بٹالین پر مشتمل فوجی دستوں نے جمعہ کی شب الدوجیل کے مضافات میں انتہا پسندوں پر حملے کی تیاری مکمل کر رکھی ہے۔ اس محاذ کو عسکریت پسندوں سے پاک کرانے کے بعد یہی فوجی دستے شمال مغربی سمت پیش قدمی کریں گے، یہ علاقہ پہلے القاعدہ اور اب داعش کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الخزرجی نے کہا فوجی کارروائی میں سید غریب، الرفیعات نامی دیہات خالی کرائے گئے ہیں۔ اگر علاقے میں بارودی سرنگیں اور گھروں میں آئی ای ڈیز نصب نہ ہوتی تو فوجی کارروائی بہت جلد مکمل ہو جاتی، تاہم پیش قدمی کرنے والے فوجی دستوں میں شامل انجینئرنگ کور کے دستوں نے یہ رکاوٹ اپنی مہارت سے جلد عبور کی ہے۔

دوسری فوجی کارروائی صلاح الدین کے شمالی محاذ پر شروع کی جائے گی جس میں الجلام، الدورہ اور العلم کا علاقہ دہشت گردوں سے پاک کرایا جائے گا۔ یہاں سے فوجی کارروائی تکریت شہر اور پھر الفتحہ کے علاقے میں کی جائے گی۔

تیسرے مرحلے میں صلاح الدین اور الانبار کے درمیان صحرائی علاقے کو عسکریت پسندوں سے صاف کرایا جائے گا۔ اس میں الکرامہ کا علاقہ بھی شامل کیا جائے گا۔ نیز دارالحکومت بغداد کے نزدیک واقع الطرمیہ اور المشاہدہ کے علاقوں کو بھی انتہا پسندوں کے چنگل سے آزاد کرایا جائے گا۔