.

فلسطین کے لیے امریکی امداد متاثر ہونے کا خدشہ

آئی سی سی میں شمولیت کے منفی اثرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت میں شمولیت کے فیصلے پر امریکا کے سخت ردعمل کے بعد اب امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ واشنگٹن فلسطینی اتھارٹی کے لیے اپنی جانب سے فراہم کردہ امداد روک سکتا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے یک طرفہ طور پر عالمی عدالت انصاف سے رجوع کا فیصلہ خود فلسطینی انتظامیہ کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں امریکا فلسطین کے لیے اپنی امداد روک یا کم کرسکتا ہے۔

خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے عالمی سلامتی کونسل میں اسرائیلی قبضے کے دو سال کے اندر خاتمے کی قرارداد کی ناکامی کے عالمی فوج داری عدالت میں شمولیت کی درخواست دی ہے۔ آئی سی سی میں فلسطینی اتھارٹی کی شمولیت کے بعد اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کی راہ ہموار ہو گی مگر امریکا مسلسل فلسطینی اتھارٹی کے اس اقدام کی مخالفت کر رہا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے اقوام متحدہ میں سفیر ریاض منصور نے کل جمعہ کو عالمی فوج داری کے معاہدوں میں شمولیت کی درخواست اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل تک پہنچائی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالم عدالت انصاف کی رُکنیت کے حصول کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو اسرائیل کے جنگی جرائم کی وسیع تر تحقیقات کا حق مل جائے گا۔ فلسطینی اتھارٹی اگرچاہے توعالمی عدالت انصاف کے یکم جولائی 2002ء کو قیام کے بعد سے اب تک اسرائیلی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ کرسکتی ہے۔ تاہم بین الاقوامی عدالت اسرائیل کے خلاف کسی بھی درخواست پر فلسطین کو باقاعدہ رکن تسلیم کرنے کے بعد ہی کارروائی کرنے کی مجاز ہے۔

امکان ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے رُکنیت کی درخواست کو جلد ہی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ سلامتی کونسل کے برعکس امریکا اور اسرائیل فلسطینیوں کو عالمی عدالت انصاف میں جانے سے روکنے کے مجاز نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو درخواست کا مسودہ ملنے کے ساٹھ روز کے اندر اندر عالمی عدالت انصاف فلسطینی ریاست کو رکن کا درجہ دے سکتی ہے۔ یہ ایک معمول کی کارروائی ہوگی جس میں امریکا سمیت کوئی دوسرا ملک مداخلت نہیں کر سکتا۔ غالب امکان ہے کہ عالمی عدالت انصاف میں فلسطینی ریاست کو 02 مارچ 2015ء تک مکمل ریاست کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔ عالم عدالت کی منظوری کے بعد فلسطینی ریاست عدالت کا 123 واں رکن ہوگا۔

خیال رہے کہ عالمی عدالت انصاف میں دی گئی درخواست سے عدالت کے دیگر 14 معاہدوں کی بھی پاسداری کرنا ہوگی جن میں کلسٹر بموں کی تیاری اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری اور اس کے پھیلائو پر پابندی جیسے معاہدے بھی شامل ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے ابتدائی طورپر اسرائیل کے خلاف جنگ جرائم کی تحقیقات کے لیے گذشتہ موسم گرماں میں غزہ کی پٹی کے اکاون روزہ حملے کے عرصے کو بنیاد بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ سرگرمیوں پرپابندی کی بھی درخواست کر سکتی ہے۔ عالمی ادارے پہلے ہی اسرائیل کی یہودی آبادکاری کو بین الاقوامی اصولوں کے خلاف قرار دے چکے ہیں۔