.

مغربی یروشلم: امریکی سفارت کاروں پر یہودی آبادکاروں کا پتھراو

سفارتکار زیتون کے باغات کی تباہی کی تحقیقات کے لیے آئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سفارت کاروں کی ایک ٹیم پر یہودی آبادکاروں نے پتھراو کر دیا۔ سفارتکاروں کی یہ ٹیم مغربی کنارے میں فلسطینی کسانوں کے زیتوں کے باغات کو یہودیوں کی طرف سے تباہ کیے جانے کی شکایات کی تحقیقات کے لیے پہنچی تھی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہودی بستیوں کے مکینوں نے امریکی قونصلر کی گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان پر پتھر پھینکے۔ یہ واقعہ غیر قانونی طور پر قائم ایک یہودی بستی اڈائی ایڈ میں پیش آیا۔ یہودی بستی فلسطینی گاوں تورموس آیا کے نزدیک ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق اس پتھراو سے کوئی نقصان نہیں ہوا اور سفارتی کارروان اس واقعے کے بعد بھی اپنے راستے پر گامزن رہا۔

پولیس ترجمان کے مطابق '' سفارت کار بظاہر ایک مشن پر تھے، لیکن اس مشن کے لیے سفارتکاروں نے اسرائیلی سکیورٹی اداروں کے ساتھ رابطہ نہیں کیا تھا۔

یہ سفارت کار فلسطینی کسانوں کی طرف سے ان شکایات کی تحقیقات کے لیے آئے تھے، ان کسانوں کے زیتون کے کھیتوں کو یہودیوں نے تباہ کر دیا تھا۔ مبینہ طور پر یہودیوں نے زیتون کے پانچ ہزار پودے اکھاڑ دیے تھے۔

امریکی سفارتکاروں کے ساتھ یہودی آباد کاروں کی طرف سے کیے جانے والے پتھراو پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ واضح رہے پچھلے ماہ اسی علاقے میں فلسطینی وزیر زیاد ابو عین کو اسرائیلی فورسز نے شہید کردیا تھا۔