.

اسرائیل نے فلسطین کے محصولات منجمد کر دیئے

فلسطینی قیادت کے خلاف مقدمات قائم کرنے کی دھمکیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کی طرف سے جرائم کی عالمی عدالت (ICC) میں رکنیت کی درخواست دینے کے بعد اسرائیل نے فلسطین کو محصولات کے ذریعے وصول کی جانے والی رقوم کی منتقلی روک دی ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ بارہ کروڑ ستر لاکھ ڈالر کے محصولات کی جو رقم فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے اسرائیل نے وصول کی تھی وہ فلسطینی اتھارٹی کو منتقل نہیں کی جائے گی۔

فلسطینی اتھارٹی نے آئی سی سی میں رکنیت حاصل کرنے کی درخواست جمعہ کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو جمع کروائی تھی جس کی امریکا اور اسرائیل نے شدید مخالفت کی ہے۔

فلسطین کے مذاکرات اعلیٰ صائب عریقات نے اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور اسے ایک اور 'جنگی جرم' قرار دیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسرائیل نے فلسطین کو ٹیکس کی رقوم کی منتقلی کو روک دیا ہو۔ اس سے قبل سنہ 2014 میں بھی جب فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے مختلف بین الاقوامی معاہدات اور کنونشنز میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا اسرائیل نے ٹیکسوں کی رقوم فلسطینی اتھارٹی کو دینے سے انکار کر دیا تھا۔

بین الاقوامی جرائم کی عدالت میں رکنیت حاصل کرنے کے بعد فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات چلانے کی درخواست کر سکتی ہے۔

اسرائیلی حکومت کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل فلسطینیوں کی طرف سے اپنے خلاف ہر اقدام کا دفاع کرے گا۔ ایک اسرائیلی اخبار 'وائی نیٹ' سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر جنگی جرائم کے مقدمات کی نوبت آئی تو اسرائیل کے پاس بھی بہت سا مواد موجود ہے۔

انھوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اس وقت حماس کے ساتھ حکومت میں اتحادی ہے جو کہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو داعش جیسے جنگی جرائم کی مرتکب ہے اور اسے عالمی عدالت سے تشویش ہونی چاہیے۔

بدھ کے روز صدر محمود عباس نے بین الاقوامی عدالت کے بنیادی معاہدے، روم کے قانون پر دستخط کیے۔ اس قانون کے تحت فلسطینی کی طرف سے رکنیت کی درخواست دینے کے بعد ساٹھ دن اس پر فیصلے میں لگے سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی طرف سے سنہ 2012 میں فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دینے سے اس کے آئی سی سی کی رکنیت حاصل کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ آئی سی سی کے چیف پراسیکیوٹر فیٹؤ بنسودا نے کہا تھا کہ اقوام ہ متحدہ میں فلسطین کو غیر رکن مبصر کا درجہ ملنے سے فلسطین روم قانون کی رکنیت لینے کا اہل ہو گیا ہے۔

ہیگ میں قائم جرائم کی عالمی عدالت یکم جولائی سنہ 2002 میں روم کے قانون کے نفاذ کے بعد قتل عام، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے واقعات پر مقدمات چلا سکتی ہے۔