.

دمشق کے نواحی علاقے پر جیش الاسلام کا قبضہ

الدوما میں جیش الاسلام اور جیش القومی کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اسلامی جنگجوؤں پر مشتمل ایک باغی گروپ نے اپنے ایک حریف گروپ کو لڑائی میں شکست دینے کے بعد دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے الدوما پر قبضہ کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اتوار کو اطلاع دی ہے کہ ''جیش الاسلام سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کی بغداد کے نواحی علاقے الدوما میں جیش القومی نامی گروپ سے شدید لڑائی ہوئی ہے۔ان دونوں گروپوں میں سنی جنگجو شامل ہیں اور وہ صدر بشار الاسد کی وفادار فوج کے خلاف لڑرہے ہیں''۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ ان دونوں گروپوں کے درمیان لڑائی میں متعدد جنگجو مارے گئے ہیں۔تاہم اس نے مہلوکین کی حتمی تعداد نہیں بتائی ہے۔ جیش الاسلام نے لڑائی کے بعد اپنے حریف گروپ کے بہت سے جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔

الدوما دمشق اور شام کے تیسرے بڑے شہر حمص کے درمیان شاہراہ پر واقع ہے۔جیش الاسلام الدوما اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ایک طاقتور گروپ کے طور پر موجود ہے اور اس کی نومبر میں مقامی مسلح افراد سے بھی لڑائی ہوئی تھی۔تب مقامی افراد نے اس تنظیم سے وابستہ ایک گروپ کے ڈپو پر حملہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار متعدد گروپ آپس میں بھی محاذ آراء ہیں اور اس کی وجہ سے ان کی حکومت مخالف مزاحمتی جنگ کمزور ہوئی ہے۔شام کے شمالی شہروں میں باغی گروپ علاقوں یا املاک پر قبضے کے لیے آپس میں محاذ آراء ہیں۔البتہ دمشق سے جنوب میں واقع علاقوں میں ان کے درمیان اس طرح کی محاذ آرائی نہیں ہے۔شام سے تعلق رکھنے والے مقامی گروپوں کی باہمی لڑائیوں سے دولت اسلامی (داعش ) اور القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرۃ محاذ نے فائدہ اٹھایا ہے اور داعش نے تو جون سے عراق اور شام میں اپنے زیر قبضہ علاقوں پر اپنی خلافت قائم کررکھی ہے۔اس کے زیرنگیں علاقوں میں دوسرے جنگجو گروپوں کو پَر مارنے کی بھی مجال نہیں ہے۔