.

''اسرائیلیوں کو آئی سی سی میں گھسیٹنے نہیں دیں گے''

فلسطینی اتھارٹی کی عالمی عدالت میں درخواست کے بعد نیتن یاہو کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو تو پہلے ہی پامال کرتا چلا آرہا ہے اور وہ انھیں کسی خاطر میں نہیں لاتا ہے۔اب اس کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے سیدھے سبھاؤ یہ کَہ دیا ہے کہ'' صہیونی ریاست اپنے فوجیوں کے خلاف ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں ممکنہ جنگی جرائم کے الزامات پر مقدمات نہیں چلانے دے گی''۔

نیتن یاہو نے اتوار کو کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس سے قبل ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم اسرائیل کی دفاعی افواج کے فوجیوں اور افسروں کو ہیگ میں عالمی فوجداری عدالت میں گھسیٹنے کی اجازت نہیں دیں گے''۔

صہیونی وزیراعظم نے یہ بیان فلسطین کی جانب سے آئی سی سی کی رُکنیت اور اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے درخواست کے دوروز بعد جاری کیا ہے۔فلسطینی اتھارٹی نے اپنی اس درخواست میں آئی سی سی سے کہا ہے کہ 13 جون 2014ء کے بعد فلسطینی علاقوں میں رونما ہونے والے جرائم کی تحقیقات کرے۔

اگر عالمی عدالت ان تحقیقات کا آغاز کرتی ہے تو وہ غزہ کی پٹی پر صہیونی فوج کی مسلط کردہ پچاس روزہ جنگ پر اپنی توجہ مرکوز کرے گی۔اسرائیلی فوج کی 8 جولائی 2014ء سے غزہ کی پٹی کے شہروں اور قصبوں پر تباہ کن بمباری کے نتیجے میں دوہزار دوسو سے زیادہ فلسطی شہید ہوگئے تھے۔ان میں زیادہ تر عام شہری تھے۔فلسطینی مزاحمت کاروں کے جوابی راکٹ حملوں اور ان کے ساتھ جھڑپوں میں چھیاسٹھ صہیونی فوجی اور پانچ شہری ہلاک ہوئے تھے۔

اسرائیل نے آئی سی سی میں اپنے خلاف درخواست کے ردعمل میں فلسطینی اتھارٹی پر اقتصادی پابندیاں لگانا شروع کردی ہیں اور اس کی جانب سے اکٹھی کی جانے والی محصولات کی ساڑھے بارہ کروڑ ڈالرز کی قسط کو ادا کرنے سے انکار کردیا ہے۔اس کے علاوہ اس نے فلسطینیوں کے خلاف امریکا سمیت مختلف مقامات پر مقدمات چلانے کی بھی دھمکی دی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے ایک سینیر عہدے دار نے اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل ہرماہ محصولات کی مد میں فلسطینی اتھارٹی کو قریباً ساڑھے بارہ کروڑ ڈالرز ادا کرتا ہے اور اس رقم کو فلسطینی اتھارٹی کے ملازمین کی تن خواہوں کی ادائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اتھارٹی کے ملازمین کی ماہانہ تنخواہوں کی کل ممالیت بیس کروڑ ڈالرز بنتی ہے۔فلسطین کو اگربطور ریاست آئی سی سی کی مکمل رکنیت مل جاتی ہے تو وہ امریکا سے ملنے والی سالانہ چالیس کروڑ ڈالرز کی امدادی رقم سے بھی محروم ہوجائے گی۔