.

اسرائیلی شہریت چھوڑنے والوں کی تعداد میں پینسٹھ فیصد اضافہ

ایسے یہودی امریکا، برطانیہ، جرمنی آسٹریلیا اور ہالینڈ کے رہائشی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی شہریت چھوڑنے کے رجحان میں پچھلے برس پیسٹھ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسرائیلی شہریت چھوڑنے کا اعلان کرنے والوں میں امریکی اور مغربی ممالک کے شہری زیادہ ہیں جو اس سے پہلے اسرائیلی شہریت بھی رکھتے تھے۔

اسرائیلی میڈیا کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار تیرہ میں اسرائیلی شہریت کو خیرباد کہنے والوں کی تعداد چار سو اٹھتر تھی، جبکہ پچھلے سال دو ہزار چودہ میں یہ تعداد بڑھ کر سات سو پیسٹھ ہو گئی ہے۔ اسرائیل نے دوہزار چودہ کے دوران ایسی چھ سو پینتیس درخواستیں منظور کی ہیں۔

ان اسرائیلی شہریت سے نجات پانے والے سینکڑوں افراد نے مختلف وجوہ بیان کی ہیں۔ تاہم ایک مشترکہ بات ان کا بہتر مستقبل ہے جس کی راہ میں اسرائیلی شہریت کو وہ رکاوٹ محسوس کرنے لگے ہیں۔

متعدد نے اسرائیلی شہریت چھوڑتے ہوئے یہ وجہ بیان کی ہے کہ وہ دوہری شہریت کو غیر ضروری سمجھتے ہیں اس لیے امریکی یا یورپی ملک کی شہریت کے ساتھ اسرائیلی شہریت کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

بعض نے اسرائیلی شہریت کو دوسرے ممالک میں اہم اور حساس نوعیت کی ملازمتوں میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے بعض اچھی اور پرکشش ملازمتوں کے دروازے دنیا میں بند ہو جاتے ہیں۔

واضح رہے اس طرح کی درخواستیں زیادہ جرمنی، امریکا، آسٹریلیا، برطنیہ اور ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے یہودیوں نے دی ہیں، تاکہ اسرائیلی شہریت چھوڑ کر اطیمنان کی زندگی میں داخل ہو سکیں۔