.

حماس اقوام متحدہ سے دوبارہ رجوع کی مخالف

سلامتی کونسل میں دوبارہ مجوزہ قرارداد پیش کرنا حماقت ہوگا:ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی جماعت حماس نے صدر محمود عباس کی جانب سے اسرائیلی قبضے کے خاتمے سے متعلق مجوزہ قرار داد کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دوبارہ پیش کرنے کے لیے کوشش کی مکمل طور پر مخالفت کردی ہے۔

حماس کے ترجمان سامی ابو زہری نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ان کی جماعت فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے دوبارہ رجوع کرنے کی کسی بھی کوشش کی مکمل مخالف ہے۔ایسا اقدام سیاسی حماقت ہوگا اور یہ ہماری قوم کی قسمت سے ایک خطرناک کھیل کھیلنے کے مترادف ہے''۔

انھوں نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ''محمود عباس اور فلسطینی اتھارٹی کی قیادت کو اس سیاسی حماقت سے مکمل طور پر باز آجانا چاہیے''۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 30 دسمبر کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق مجوزہ قرارداد کی منظوری نہیں دی تھی۔

اس کے بعد فلسطینی قیادت نے 2 جنوری کو اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور صہیونی ریاست کے ساتھ حتمی امن معاہدے تک پہنچنے سے متعلق مجوزہ قرارداد کو دوبارہ سلامتی کونسل میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو رودینہ نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ قرارداد کو بہت جلد دوبارہ کونسل میں پیش کیا جائے گا لیکن انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس کو کب پیش کیا جائے گا۔

گذشتہ ہفتے سلامتی کونسل کے تین مستقل رکن ممالک چین ،فرانس اور روس سمیت آٹھ ارکان نے فلسطینی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ امریکا اور آسٹریلیا نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔

برطانیہ سمیت پانچ ممالک رائے شماری کے وقت سلامتی کونسل کے اجلاس سے غیر حاضر رہے تھے۔ان میں مسلم اکثریتی ملک نائیجیریا کا نمائندہ بھی شامل تھا حالانکہ اس کے بارے میں یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ فلسطینی قرارداد کے حق میں ووٹ دے گا لیکن اس نے آخری وقت میں اپنا ارادہ تبدیل کر لیا تھا۔

فلسطینیوں کو قرارداد کی منظوری کے لیے ''ہاں'' میں نو ووٹ درکار تھے لیکن وہ اس میں ناکام رہے تھے اور یہ ان کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا تھا حالانکہ وہ پہلے یہ توقع کررہے تھے کہ انھیں سلامتی کونسل کے نو ممالک کی حمایت حاصل ہوجائے گی لیکن وہ اس میں ناکام رہے تھے۔