.

خالد الخوجہ شامی اپوزیشن کے نئے سربراہ مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن کی جنرل انقلاب کونسل نے حزب اختلاف کے متحدہ محاذ کے سربراہ ھادی البحرہ کی سبکدوشی کے بعد ڈاکٹر خالد الخواجہ کو نیا سربراہ منتخب کیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق شامی اپوزیشن اتحاد کے نئے سربراہ کے لیے نیشنل کونسل کے زیر اہتمام رائے شماری گذشتہ روز ترکی کے شہر استنبول میں ہوئی جس میں الخوجہ 56 ووٹوں کےساتھ اتحاد کے نئے سربراہ منتخب ہوئے۔ ان کے مقابلے میں اپوزیشن کے سابق سیکرٹری جنرل نصر الحریری کو 50 ووٹ ملے۔

اپوزیشن اتحاد کے جنرل سیکرٹری کا پہلے مرحلے میں انتخاب نہیں ہو سکا جس کے بعد دوسرے مرحلے کی رائے شماری تک جنرل سیکرٹری کا انتخاب موخر کر دیا گیا ہے۔ اپوزیشن نے ھشام مروہ کو نیشنل الائنس کا نائب صدر مقرر کیا تاہم دو دیگر نائب صدور کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

اپوزیشن کی جانب سے نامزد وزیر اعظم احمد طعمہ پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا گیا جبکہ وزارت انصاف، لوکل گورنمنٹ اور وزارت ثقافت کے وزراء کو بھی اعتماد کا ووٹ دیا گیا۔ اپوزیشن نے نادر عثمان کو اپنا نائب وزیر اعظم مقرر کیا جبکہ وزارت خزانہ اور توانائی کے قلم دان فی الحال خالی رکھے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ شامی اپوزیشن کی قیادت میں حالیہ ردو بدل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان روس کی میزبانی میں رواں ماہ کی چھبیس تاریخ کو دوبارہ بات چیت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ روس نے شامی اپوزیشن کے ساتھ بات چیت میں صدر بشار الاسد کا کردار محدود کرنے کا عندیہ دیا ہے جس کے بعد اپوزیشن نے مذاکرات کی مساعی میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔

خالد الخوجہ کون؟

شامی اپوزیشن کے نو منتخب صدر خالد الخوجہ کا آبائی شہر دمشق ہے جہاں وہ چار جولائی 1965ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم دمشق ہی سے حاصل کی۔ صدر بشار الاسد کے والد حافظ الاسد کے دور حکومت میں الخوجہ دو مرتبہ اپنے اسکول کے زمانے میں جیل میں بھی ڈالے گئے۔

جیل سے رہائی کے بعد وہ لیبیا چلے گئے جہاں انہوں نے میٹرک تک تعلیم مکمل کی۔ سنہ 1985ء میں وہ لیبیا سے ترکی چلے گئے جہاں جامعہ استنبول میں سیاسیات میں داخلہ لیا۔ سنہ 1986ء میں ترکی کی جامعہ ازمیر سے وابستہ ہو گئے اور سنہ 1994ء میں ترکی سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف چار سال قبل شروع ہونے والی عوامی بغاوت میں ڈاکٹر خالد الخوجہ بھی ایک توانا آواز بن کر ابھرے۔ انہیں شامل کی نیشنل کونسل میں شامل کیا گیا۔ دو سال قبل انہوں نے شامی اپوزیشن کو متحد کرنے اور نیشنل الائنس تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ اب تک ترکی میں شامی اپوزیشن کے مندوب کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔