.

مسلمان جوق در جوق بیت المقدس آئیں: او آئی سی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی ملکوں کی نمائندہ تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکرٹری ایاد مدنی نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں مقبوضہ بیت المقدس آئیں تا کہ اس شہر کے خلاف اسرائیل کی ریشنہ دوانیوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کی جانب سے بیت المقدس کو عالم اسلام کا سیاحتی دارالحکومت قرار دینے کا فیصلہ ایک حقیقت ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ایاد مدنی نے ان خیالات کا اظہار غرب اردن میں ’’یروشلم ہماری یادوں میں‘‘ کے عنوان سے لگائی گئی ایک نمائش کی افتتاحی تقریب اور فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس تمام مسلمانوں کا شہر ہے اور دنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں مسلمان بیت المقدس کی طرف رخت سفر باندھیں۔

ایاد مدنی کا کہنا تھا کہ ہم سعودی عرب میں حج اور عمرہ کے محکمہ کی طرح فلسطین اردن کی سیاحتی ایجنسیوں کے زیر اہتمام ایک باضابطہ شعبہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے ذریعے بیت المقدس اور فلسطین آنے کے خواہش مند مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ ارض مقدس میں لانے میں مدد فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ ایک لاکھ مسلمان بیت المقدس کی زیارت کا شرف حاصل کریں۔ سالانہ اگر چھ ملین افراد عمر ادا کرنے سعودی عرب آ سکتے ہیں تو ایک لاکھ افراد بیت المقدس بھی لائے جا سکتے ہیں۔

او آئی سی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جو لوگ بیرون ملک سے مسلمانوں کے بیت المقدس آنے کے اس لیے خلاف ہیں کہ القدس پر اسرائیل کا ناجائز تسلط قائم ہے تو انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس دونوں مسلمانوں کے ہیں اور ہم ان پر ہم اپنا حق ثابت کر چکے ہیں۔ عالم اسلام کے تمام مسلمان اپنے اس حق کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے اور کسی کو بیت المقدس اور مسجد اقصی کاحق چھیننے نہیں دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ سنہ 1967ء کی چھ روزہ عرب۔اسرائیل جنگ کے بعد بیت المقدس پر اسرائیل کا قبضہ ہے اور اسرائیلی ویزے کے بغیر بیت المقدس کا دورہ ممکن نہیں ہے۔ بیت المقدس کے گرد اسرائیل نے کنکریٹ کی مضبوط دیوار تعمیر کررکھی جس سے عبور کرنا ویسے ممکن نہیں ہے۔ اسرائیل نے فلسطین کے دوسرے علاقوں کے شہریوں کے لیے بھی بیت المقدس میں داخلے کے لیےخصوصی اجازت نامے کی شرط عاید کر رکھی ہے۔

دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے ایاد مدنی کے عالم اسلام سے مسجد اقصیٰ کی زیارت کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ تعداد میں قبلہ اول میں آئیں اور بیت المقدس کا دورہ کریں۔ صدر عباس کا کہنا تھا کہ مسلمان بیت المقدس کے دورے کو حرام قرار دینے والے گمراہ کن مطالبات پرکان نہ دھریں۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی زیارت حج کی طرح ایک مقدس فریضہ ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ حج اور عمرے کے لیے آنے والے بیت المقدس شریف کی زیارت کر کے اپنا حج مکمل کریں۔

گذشتہ روز او آئی سی کے سیکرٹری جنرل اردن سے الکرامہ گذرگاہ کے راستے مغربی کنارے کے لیے روانہ ہوئے تاہم انہیں اسرائیلی حکام نے ایک گھنٹہ روکے رکھا اور وہ تاخیر سے رام اللہ پہنچے۔ اس موقع پر صدر محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے یہ وہ پابندیاں ہیں جن کے باعث ہمیں عالم سلامتی کونسل میں جانا پڑا ہے۔