.

داعش سے لڑائی میں 23 عراقی فوجی ہلاک

جنگجو گروپ کے زیر قبضہ علاقوں کو جلد واپس لیں گے: حیدر العبادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مغربی صوبے الانبار میں سکیورٹی فورسز پر خود کش بم حملے اور سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کے ساتھ جھڑپوں میں تئیس فوجی اور حکومت کے حامی سنی جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

عراقی پولیس کے مطابق دارالحکومت بغداد سے ایک سو اسی کلومیٹر شمال مغرب میں واقع قصبے البغدادی میں ایک خودکش بمبار نے منگل کی صبح پہلے حکومت نواز سنی جنگجوؤں کے ایک اجتماع پر حملہ کیا تھا۔اس کے بعد داعش کے جنگجوؤں نے نزدیک واقع فوج اور پولیس کے ٹھکانوں پر حملہ کردیا اور پھر ان کے درمیان کئی گھنٹے تک لڑائی جاری رہی ہے۔

پولیس اور اسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بم دھماکے اور لڑائی میں تئیس فوجی اور حکومت نواز جنگجو مارے گئے اور اٹھائیس زخمی ہوئے ہیں۔انھوں نے داعش کی ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں دی ہے اور صرف یہ کہا ہے کہ ان کی کچھ ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن اس کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

ادھر بغداد میں عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کی فورسز گذشتہ سال موسم گرما میں داعش کے قبضے میں آنے والے تمام علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیں گی۔

انھوں نے آرمی ڈے کے موقع پر ملٹری اکیڈیمی میں نئے گریجوایٹ فوجی افسروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم فاتح کے طور پر اُبھریں گے اور ہماری سرزمین کے آزاد ہونے میں تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔ہمارا مقصد عراق میں امن اور خوشحالی کی بحالی اور عراقی تاریخ کے تاریک دور کا خاتمہ ہے''۔

آٹھ افراد کا قتل

درایں اثناء دولت اسلامی نے شمالی صوبے صلاح الدین میں آٹھ افراد کو عراقی فورسز اور امریکا کی قیادت میں اتحادی طیاروں کے فضائی حملوں میں معاونت کے الزام میں ہلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

داعش نے ان آٹھ افراد کی آن لائن تصاویر پوسٹ کی ہیں۔ایک تصویر میں ان کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں۔انھوں نے نارنجی رنگ کے جمپ سوٹ پہن رکھے ہیں اور ان کے ہاتھ پشت پربندھے ہوئے ہیں۔ان میں پانچ کی شناخت پولیس افسر اور دو کی مخبر کے طور پر کی گئی ہے لیکن آٹھویں شخص کی شناخت نہیں بتائی گئی۔

ان تصاویر سے ظاہر ہورہا ہے کہ یہ تمام افراد دریا کے کنارے موجود ہیں اور وہ گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ نقاب پوش مسلح افراد ہیں اور ایک پُل کے نیچے نظر آرہے ہیں۔وہ ان مبینہ ملزموں پر فائرنگ کی تیاری میں ہیں۔دوسری تصاویر میں ان کی خون آلود نعشیں نظر آرہی ہیں۔

ٹویٹر پر سوموار کی شب پوسٹ کی گئی ان تصاویر کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔تاہم ایک صوبائی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان تصاویر سے متعلق ایک مختلف تفصیل بیان کی ہے۔ان صاحب کا کہنا ہے کہ تصاویر میں نظر آنے والے افراد آرمی آفیسر ہیں۔انھوں نے گذشتہ سال جنگجوؤں کی شمالی عراق میں چڑھائی سے قبل فوج کو خیرباد کَہ دیا تھا اور انھوں نے عراقی فورسز کے ساتھ تعاون نہیں کیا تھا۔

واضح رہے کہ صلاح الدین کے صوبائی دارالحکومت تکریت اور اس کے نواح میں واقع دوسرے دیہات اور قصبوں پر گذشتہ جون سے داعش نے قبضہ کررکھا ہے۔انھوں نے عراق اور شام میں اپنے زیر قبضہ علاقوں پر خلافت کے نام سے اپنی حکومت قائم کررکھی ہے مگر ان علاقوں کے مکین اب داعش کے جنگجوؤں کے سخت اقدامات اور تشدد پسندی کی وجہ سے ان کے مخالف ہورہے ہیں اور ان میں کی اکثریت جان کے خوف سے داعش کے مقابل آنے سے گریزاں ہے۔