.

شامی پناہ گزین بغیر ویزہ لبنان داخل نہیں ہو سکیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی حکومت نے پناہ گزینوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کے پیش نظر شام سے آنے والے مہاجرین کے لیے ویزے کی شرط لازمی قرار دی ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دونوں ملک ماضی میں ’ویزہ فری‘ پالیسی پر عمل پیرا رہے ہیں لیکن پچھلے چار برسوں کے دوران شام میں جاری شورش کے نتیجے میں دس لاکھ سے زاید شامی پناہ گزینوں کی لبنان آمد کے بعد بیروت نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے شامی شہریوں کے لیے ویزے کی شرط لازمی قرار دی ہے۔

لبنان کے محکمہ پبلک سیکیورٹی کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ شام سے آنے والے مزید پناہ گزینوں کے لیے پالیسی میں تبدیلی کی گئی ہے جس کے بعد ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں سے لبنان داخل ہونے والے شامی پناہ گزینوں کو اقامتی دستاویزات مکمل کرنا ہوں گی۔ انہوں نے بتایا کہ کل پیر کے روز سے نئی پالیسی نافذ العمل ہو چکی ہے جس کے تحت لبنان میں داخلے سے قبل کسی بھی شامی پناہ گزین کو ملک میں اقامت اختیار کرنے کے لیے کاغذی کارروائی مکمل کرنا ہو گی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل لبنان میں شامی شہریوں کو ویزے کے بغیر آمد ورفت کی مکمل آزادی حاصل رہی ہے۔ شامی شہری ویزے کے بغیر لبنان داخل ہوتے اور بغیر کسی پابندی کے جہاں چاہتے تھے سفر کرتے اور کام کاج کرتے تھے لیکن اب ان کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ شام میں مارچ 2011ء کے بعد سے صدر بشار الاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کے نتیجے میں ایک ملین سے زاید شامی لبنان ھجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔ پہلے سے اقتصادی بحرانوں کا سامنا کرنے والے لبنان کے لیے لاکھوں شامی پناہ گزینوں کا بوجھ برداشت کرنا زیادہ مشکل ہو رہا ہے۔

بیروت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پبلک سیکیورٹی کے عہدیدار نے کہا کہ ہمیں ڈیڑھ ملین شامی پناہ گزینوں کا ریکارڈ مرتب کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ہمارے پاس اس مسئلے کا کوئی طلسماتی حل نہیں ہے۔ اس لیے حکومت نے مزید پناہ گزینوں کی آمد اور ملک میں داخلے کے لیے نیا ضابطہ اخلاق مرتب کیا گیا ہے۔ اس سے پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔