.

فلسطینی اتھارٹی نے آئی سی سی کا دائرہ کار تسلیم کر لیا

عدالت کے رجسٹرار نے فلسطینی دستاویز موصول ہونے کی تصدیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی نے باضابطہ طور پر حالیہ غزہ جنگ کی تحقیقات کے لیے ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے دائرہ کار کو تسلیم کر لیا ہے۔

آئی سی سی اب اسرائیل کی غزہ پر مسلط کردہ پچاس روزہ جنگ کے دوران رونما ہونے والے انسانیت مخالف جرائم اور جنگی جرائم کی تحقیقات کرے گی۔اس ضمن میں ہیگ میں آئی سی سی کے رجسٹرار ہرمین وان ہیبل کو فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے بھیجی گئی دستاویز یکم جنوری کو موصول ہوئی تھی۔

اس کے تحت فلسطینی اتھارٹی نے اس بین الاقوامی عدالت کے دائرہ اختیار کو 13 جون 2014ء سے تسلیم کر لیا ہے۔ اس سے قبل رام اللہ میں قائم انسانی حقوق کے ایک گروپ نے کہا تھا کہ غزہ پر مسلط کردہ اسرائیل کی پچاس روزہ جنگ کے دوران بے گناہ فلسطینیوں کوشہید کیے جانے اور تباہی پھیلانے کا مقدمہ آئی سی سی میں دائر کیا جائے گا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ ابھی تک فلسطینی اتھارٹی کی آئی سی سی کی رکنیت کے حصول کے لیے بھجوائی گئی دستاویز کا جائزہ لے رہی ہے۔فلسطینی اتھارٹی نے صدر محمود عباس کے دستخطوں سے آئی سی سی میں شمولیت کے لیے دو جنوری کو درخواست دی تھی۔واضح رہے کہ اس بین الاقوامی عدالت کی رکنیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عدالت خود بخود ہی جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کردے گی۔

اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف اپنی ظالمانہ کارروائیوں کا آغاز 12 جون 2014ء کو کیا تھاجب تین اسرائیلی نوجوان لاپتا ہوگئے تھے۔ان کی بازیابی کے لیے کریک ڈاؤن کے دوران اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے دوہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقوں اور مقبوضہ بیت المقدس سے گرفتار کرلیاتھا۔اس کے بعد جولائی اور اگست میں اسرائیلی فوج نے غزہ پر تباہ کن بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں قریباً بائیس سو فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے۔

فلسطینیوں کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات نے تصدیق کی ہے کہ عالمی فوجداری عدالت میں اسرائیل کے خلاف غزہ پر مسلط کردہ پچاس روزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم کے الزامات میں مقدمہ دائر کیا جائَے اور غرب اردن میں فلسطینیوں کی سرزمین پر یہودی آبادکاروں کے لیے بستیوں کے کے قیام پر ایک الگ مقدمہ قائم کیا جائے گا۔

آئی سی سی نسل کشی ،انسانیت مخالف جرائم اور جنگی جرائم کے الزامات میں مشتبہ افراد کے خلاف مقدمات چلا سکتی ہے۔یہ عدالت معاہدۂ روم کے تحت یکم جولائی 2002ء کو قائم کی گئی تھی۔ اب تک ایک سو بائیس ممالک اس عدالت کے قیام کے لیے معاہدۂ روم کی توثیق کر چکے ہیں۔تاہم امریکا اور اسرائیل نے ابھی تک اس معاہدے کی توثیق نہیں کی ہے۔